ژالہ باری: سعودی صوبہ عسیر نے سفید چادر تان لی

سیاحوں کی آمد، برف ریزے تفریح کا ذریعہ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ بارشیں فراوانی سے ہونے لگیں اور اس کے پہاڑ سفید چادر اوڑھ لیں۔ لیکن رواں سال کے دوران یہ دونوں چیزیں قادر مطلق کی قدرت کے نظاروں کے طور پر دیکھنے میں آئی ہیں۔

رواں سال کے شروع میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سمیت جدہ اور ریاض کے چہار اطراف میں شدید بارشیں برسیں اور اب سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں بارش کے ساتھ ایسی ژالہ باری ہوئی کہ زمین پر سفید چادر سی تن گئی۔ جبکہ پہاڑوں پر یہ اولے نگینوں کی طرح چمکنے لگے۔

یہ منظر سخت گرمی کے موسم میں سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان آباد بستیوں کے مکینوں کیلیے نعمت غیر مترقبہ بن گیا، گرم تھپیڑوں کی جگہ ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں نے لے لی اور شہری برفیلے اولوں سے محظوظ ہونے کیلیے باہر نکل آئے۔

اس ٹھنڈی میٹھی خبر نے آس پاس کے سعودی شہریوں کو بھی موسم کا مزہ لینے کیلیے سعودی عرب کے جنوبی صوبہ عسیر کی طرف متوجہ کر دیا۔ یوں صوبے کا دارالحکومت آبھا سمیت ہر طرف ژالہ باری کے بعد رونقیں لگ گئیں۔

گھروں کے اندر اپنے آنگنوں اور لانز کو برفیلی سفیدی میں لپٹا دیکھ کر شہریوں نے اس کبھی کبھار سامنے آنے والے عجوبے کی طرف متوجہ کرنے کیلیے فون کر کے بتایا۔ بچوں نے ژالہ باری کو تفریح کا سامان بنایا اور اپنی سنگتراشی کی چھپی صلاحیتوں کو آزما کر ان برف ریزوں سے من پسند کردار '' تخلیق'' کرنا شروع کر دیے۔

گویا گھروں کے اندر اور گھروں سے باہر کھیل رنگ شروع ہو گیا۔ بعضوں نے برف ریزوں سے برفانی انسان بنانے شروع کر دیے۔ بعضوں نے اپنی پسند کی کوئی اور چیز بنا ڈالی۔ آس پاس کے شہروں سے آنے والے سیاح اور مہمان بھی اس سے خوب لظف اٹھانے والوں میں شامل رہے.

سعودی عرب میں ژالہ باری سے بنائے گئے مختلف فن پارے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں