اسرائیلی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں کو گولیاں مار دیں

یوم نکبہ پر فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بچوں کے حقوق کی علمبردار ایک عالمی تنظیم نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے فلسطینیوں پر بہیمانہ مظالم کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں گذشتہ ہفتے احتجاج کے دوران صہیونی فورسز کو دو نہتے نوعمر فلسطینیوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 15 مئی کو یوم نکبہ کے موقع پر فلسطینیوں کے غرب اردن میں واقع عفر جیل کے نزدیک مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے فوجیوں نے ربر کی گولیاں چلائی تھیں اور براہ راست فائرنگ نہیں کی تھی۔ البتہ اس کا کہناہے کہ اس واقعہ کی دو الگ الگ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی حکومت نے منگل کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیلی فوج پر نہتے بچوں کو گولیاں مار کر شہید کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور اس واقعہ کو ایک جنگی جرم قرار دیا ہے۔

فلسطین کے طبی حکام کے مطابق دو نوعمر لڑکوں ابو طہر اور ندیم نوارا کی چھاتیوں میں گولیاں لگی تھیں۔ ان کی عمریں بالترتیب سولہ اور سترہ سال تھیں۔پہلے فلسطینی حکام نے ان کی عمریں بائیس اور سترہ سال بتائی تھیں۔ان دونوں کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے یوم نکبہ پر اسرائیل کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں ماری تھیں۔

بچوں کے دفاع کی عالمی تنظیم ''دفاع اطفال عالمی''(ڈی سی آئی ) نے یوٹیوب پر اس واقعہ کی دو منٹ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ایک سکیورٹی کیمرے کی چھے گھنٹے کی فوٹیج سے یہ ویڈیوایڈٹ کی گئی ہے۔اس تنظیم نے ویڈیو کے حوالے سے کہا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر ان بچوں کو قتل کیا تھا کیونکہ وہ فائرنگ کے وقت فوجیوں کے لیے کسی قسم کے خطرے کا موجب نہیں تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ ضابطے کے مطابق اگر فوجیوں کو کسی سے جان کا خطرہ لاحق ہو تو وہ اس پر براہ راست فائرنگ کرسکتے ہیں لیکن اس ویڈیو میں وردی میں ملبوس کوئی بھی اسرائیلی فوجی نظر نہیں آرہا ہے اور کوئی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی ہے۔

اس ویڈیو میں ابتداء میں ایک نوجوان نظر آرہا ہے جو گلی کی نکڑ سے اسرائیلی فوجیوں کی جانب پتھر پھینکنے کی تیاری کررہا ہے۔ویڈیو میں دکھائے گئے وقت کے مطابق اس کے سات منٹ کے بعد ایک نوجوان فائرنگ کے نتیجے میں گرا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کے ایک گھنٹے کے بعد اسی علاقے میں ایک اور لڑکا فائرنگ کے نتیجے میں گرا ہوا پایا گیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں نوارا خاندان کے گھر میں ندیم کی تصویر والا ایک پوسٹر آویزاں ہے جس میں اس کو فلسطینی نصب العین کا شہید قراردیا گیا ہے۔اس کے والد صیام نے اس کا خون آلود لباس بھی سنبھال کررکھا ہوا ہے جو اس نے واقعہ کے روز پہن رکھا تھا۔ان کے پاس وہ گولی بھی موجود ہے جو ان کے بیٹے کو چیرتی ہوئی کمر سے باہر نکل گئی تھی۔ڈی سی آئی نے ایک دکاندار کا انٹرویو اس ویڈیو میں شامل کیا ہے جس کا کہنا تھا کہ اس نے چار گولیوں کے چلنے کی آواز سنی تھی۔

اس ویڈیو میں فلسطینی نوعمروں پر فائرنگ کے شواہد منظرعام پر آنے کے باوجود اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے منگل کو ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے صرف آنسوگیس اور ربر کی گولیاں ہی استعمال کی گئی تھیں اور ان پر فائرنگ نہیں کی گئی تھی۔

تاہم اس ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر ایک سوالیہ نشان موجود ہے اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔اس کے ساتھ ملٹری پولیس بھی الگ سے اس کی تحقیقات کررہی ہے۔

ڈی سی آئی کے ایک اٹارنی براڈ پارکر نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ فلسطینی اسی جگہ پر تشدد کے کسی پہلے واقعہ میں مارے گئے ہوں۔البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب پتھراؤ کررہے تھے لیکن جب واقعہ پیش آیا ہے تو اس وقت وہ بالکل فعال نہیں تھے۔

فلسطین کی ایک سینیر عہدے دار حنان اشراوی کا کہنا ہے کہ ''تشدد کا بے دریغ اور بلا امتیاز استعمال جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے''۔انھوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات پر کارروائی کریں اور اس کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں