.

دو فلسطینیوں کی شہادت، تحقیقات کرائی جائیں: عالمی برادری

تحقیقات اسرائیل خود شروع کرائے، امریکا، شفاف تحقیقات ضروری ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور امریکا نے الگ الگ مطالبہ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سرحدی پولیس کے ہاتھوں دو نوعمر فلسطینیوں کے قتل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ یہ نوعمر فلسطینی جمعرات کے روز یوم نکبہ کے سلسلے میں نہتے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے دوران شہید ہو گئے تھے۔

فلسطینی عوام گزشتہ 66 برسوں سے مسلسل ہر سال اسرائیل کے قیام کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ان دو بچوں کی جمعرات کے دن ہونے والی شہادت کے بارے میں فلسطینی بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم گروپ نے واقعے کی کلوز سرکٹ ٹی وی سے بنی فوٹیج پیش کی ہے۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں نو عمروں کو اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے بلا اشتعال نشانہ بنایا تھا۔

بیس سالہ مصعب نواراہ اور 17 سالہ محمد عودے شہادت کے بارے میں اس ٹی وی فوٹیج کو اسرائیلی حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے کہا ہے کہ'' ہم اسرائیل کے ساتھ رابطے میں اور تفصیل سے اس معاملے کو مانیٹر کر رہے ہیں، نیز متعلقہ ویڈیو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں،'' جین پاسکی نے کہا'' ہم اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے دستیاب معلومات سے بھی استفادہ کر رہے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ طاقت کا استعمال ضرورت سے زیادہ تو نہیں کیا گیا۔''

امریکی ترجمان نے کہا ''ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل اس حوالے سے فوری اور شفاف تحقیقات کرائے، اسرائیل کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ خود تحقیقات شروع کرائے۔''

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی دو نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کرانے پر زور دیا ہے۔ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نے کہا '' یہ ایک سنگین معاملہ ہے، کیونکہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی نوجوان غیر مسلح تھے۔'' انہوں نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔''