.

مصر: اخوان کے مزید 155 حامیوں کو جیل کی سزائیں

لوگوں کو تشدد پراکسانے اورایک کالعدم گروپ سے تعلق کے الزامات پرعدالت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت اور فوج کے عتاب کا شکار ملک کی سب سے منظم دینی سیاسی جماعت کے قائدین ،کارکنان اور حامیوں کو قید وموت کی سزائیں سنانے کا سلسلہ جاری ہے۔بدھ کو مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے ایک سو پچپن حامیوں کو جیل کی سزائیں سنائی ہیں۔ان میں سے چوّن کو عمرقید کا حکم دیا گیا ہے۔

مصری عدالت نے کالعدم قرار دی گئی اخوان المسلمون کے ان حامیوں کو گذشتہ سال اگست میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد نیل ڈیلٹا میں واقع صوبے منصور میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید وبند کی سزائیں سنائی ہیں۔

ان ملزمان پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے ،افراتفری پھیلانے اور ایک کالعدم گروپ سے تعلق کے الزامات پر فرد جرم عاید کی گئی تھی۔عدالت نے ایک سو ایک افراد کو تین سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔اخوان کے حامیوں نے اس فیصلے خلاف عدالت کے باہر نعرے بازی کی جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

واضح رہے کہ مصری عدالتوں کی جانب سے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں کارکنان کو گذشتہ دو ایک ماہ کے دوران سنائی گئی قید اور پھانسی کی سزاؤں پر عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بعض مبصرین نے ان سزاؤں کو انصاف کے قتل کے مترادف قراردیا ہے۔امریکا سمیت مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظِموں نے اخوان کے کارکنان کو مختلف الزامات میں سزائے موت دینے کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔