.

فیس بک کے ذریعے مہاجر شامی دوشیزاوں کو بر کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاشرتی تعلقات بڑھانے میں دلچسپی کے خواہاں افراد نے شادی کی متمنی شامی مہاجر دوشیزاوں کی 'تشہیر' کے لیے 'فیس بک' پر خصوصی صفحات کھول دیئے ہیں۔

"شامی مہاجرین کی شادی" کے عنوان سے حال ہی میں بنائے گئے صفحے پر شادی کی خواہاں دلہنوں کی تصاویر اور دیگر تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ آغاز کے ایک ہفتے کے اندر ہی اس صفحے کو 18000 افراد نے 'لائیک' کیا، تاہم اب یہ اکاونٹ نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے۔

فیس بک اکاونٹ انتظامیہ نے صفحہ دیکھنے والوں سے اپیل کی تھی کہ 'اس صفحے کو پوری عرب دنیا میں بلا تفریق عمر اور مذہب" شیئر کیا جائے۔

شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ بیدخلی پر مجبور لاکھوں شامی اردن، لبنان، ترکی اور عراق جیسے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

درایں اثنا شامی خواتین کو شادی کے لئے ورغلانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں ہیں۔

عرب روزنامہ 'الحیات' کے مطابق مذکورہ فیس بک اکاونٹ بند کر کے اس کی جگہ ترمیم شدہ 'تھیم' کے ساتھ ایک نیا اکاونٹ بنایا گیا ہے۔

نیا اکاونٹ بنانے والوں نے فیس بک کے لئے جو کور پیچ منتخب کیا ہے وہ قرآنی آیات کے عکس پر مبنی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پیج کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے یہ باور کرانا ہے کہ اسلام میں شادی کی ترغیب دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت سے افراد نے شادی کی متمنی شامی خواتین کی سوشل میڈیا پر مناسب بر تلاش کرنے کی سعی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انجم انور نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر تبصرے میں کہا ہے کہ 'ایسا پیج دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم بیمار ذہن دنیا میں رہ رہے ہیں۔"

ایک اور سوشل میِڈیا فالوور کا کہنا تھا کہ"اب شامی دلہنیں فیس بک کے ذریعے فروخت ہو رہی ہے۔ اگر یہ صفحہ بند بھی کر دیا ہے تب بھی اس حقیقت سے اغماض نہیں برتا جا سکتا ہے کہ عملا یہی ہو رہا ہے۔"