.

امام موسی کاظم کے مزار کی سالانہ تقریبات، 10 جاں بحق

سالانہ تقریبات کے لیے سخت ترین سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھاری سکیورٹی کے ساتھ بغداد کے شمال میں پہنچنے والے شیعہ مسلمانوں کے پر ہجوم قافلوں نے حضرت امام موسی کاظم کے مزار پر ہونے والی سالانہ مذہبی رسومات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس موقع پر بھاری سکیورٹی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ اہتمام بغداد میں حالیہ حملوں کے باعث کیا گیا ہے۔

ملک بھر میں پھیلے ان تازہ حملوں کے دوران 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق میں ایک مرتبہ پھر گروہی اور فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات ہونے لگے ہیں جو 2006 اور 2007 کے درمیان شروع ہوئے تھے۔

ان فسادات کی وجہ سے ہفتہ کے روز کئی شہروں کو بند کر دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے شیعہ اکثریت پر بغداد میں سنی عسکریت پسندوں کے حملوں کے خطرے کی وجہ سے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔

منتظمین کے مطابق لاکھوں زائرین ملک بھر سے اس سالانہ عرس کیلیے آ رہے ہیں جو ہفتہ اور اتوار دو دن موجود رہیں گے۔

اس سے پہلے 22 مئی کو بغداد میں بم دھماکے سے 21 لوگ مارے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دھماکے انہی تقریبات کی تیاریوں کو متاثر کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اگلے روز اس مزار سے ملحقہ ضلع میں مارٹر گولوں سے حملے کیے گئے۔

آج ہفتے کے روز یکے بعد دیگرے ہونے والے حملوں میں دس لوگ ہلاک ہوئے۔ اس میں وہ تین کسان بھی شامل تھے جنہیں علی الصبح اغواء کیا گیا تھا۔ ہفتے کے روز ہونے والے واقعات کی لپیٹ میں صوبہ نینوا بھی آیا ہے۔