.

صدر بن کر پہلے سعودی عرب جاوں گا: السیسی

خلیج کی سلامتی مصر کی سلامتی ہے، شام کی تقسیم غلط ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سب سے اہم صدارتی امیدوار اور سابق فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے صدر منتخب ہونے کی صورت خطے کے بارے میں اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی سلامتی کیلیے کسی نے خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کی تو ان کا ملک خلیجی ریاستوں کیساتھ کھڑا ہو گا۔ جبکہ بطور صدر پہلے بیرونی دورے کیلیے ان کی ترجیح سعودی عرب ہو گا۔

26 اور 27 مئی کو متوقع مصری صدارتی انتخاب میں امکانی طور پر صدر منتخب ہونے کی طرف بڑھنے والے عبدالفتاح السیسی نے عرب دنیا کے اہم اخبار الشرق الاوسط کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں سب سے پہلے سعودی عرب جا کر خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ان کی اس مدد کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو سعودی عرب نے ان کی زیر قیادت مصری عوام اور عوامی احتجاج کے ذریعے آنے والی تبدیلی کی بھر پور حمایت کی صورت میں کی ہے۔

سعودی عرب اور خلیج کے دوسرے ممالک کے ساتھ مصر کی تذویراتی قربت کا ذکر کرتے ہوئے مصری صدارتی امیدوار نے کہا ''خلیج کی سلامتی مصر کی سلامتی ہے، ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ خلیج کی سلامتی میں خلل ڈالے ۔''

مصر کے سابق فوجی سربراہ نے کہا '' ہم خلیج سے محض ایک روڈ کراسنگ کے فاصلے پر ہیں، اس لیے کسی ریاست نے خلیج کیلیے خطرہ بننے کی کوشش کی تو مصر مدد کے لیے بلائے جانے پر کسی تاخیر کے بغیر خلیج پہنچ جائے گا۔

واضح رہے فیلڈ مارشل السیسی جن کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے مصر کے صدر منتخب ہو جائیں گے. انہوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کر کے عبوری حکومت قائم کی اور اب خود صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے ہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' مصری عوام اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کو مسترد کرتے ہیں، سیناء سے شروع ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم اسے پہلے والی صورت اختیار نہیں کرنے دیں گے۔ ''

انہوں نے مزید کہا '' دہشت گردی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہمارے دروازوں پر دستک دینے لگے، اس لیے دہشت گردی سے نمٹنے کے واسطے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔''

عبدالفتاح السیسی نے کہا '' وہ ایسے مذہبی مکالمے کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے جو اسلام کے لیے نقصان کا باعث ہے، تاہم اس کے لیے ایک مشترکہ عرب بصیرت اور حکمت عملی کی ضرورت ہو گی۔ ''

مصر میں اخوان المسلمون کے مستقبل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا'' مصری عوام کا اخوان پر اعتماد ختم ہو چکا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ الازہر اعتدال پسند اسلام کے حوالے سے نئی نسل کی ذہنی آبیاری کرے تاکہ انتہا پسندی کا خاتمہ ہو سکے۔''

لیبیا کی بحرانی صورت حال کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا '' پچھلے دو برسوں کے دوران شمالی افریقہ کا یہ ملک دہشت گردی اور عسکری ملیشیاوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، اسے اس سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا روڈ میپ دیا جائے جو لیبیا کے عوام کی خواشات کی ترجمانی کا ذریعہ بنے نہ کہ عسکریت پسندوں کی خواہشات کی ترجمانی کا آئینہ دار ہو۔''

شام کے بارے میں عبدالفتاح السیسی نے نے کہا '' شام ایک ریاست ہے اس کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، شام کو تقسیم کرنے سے نئے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ ''