.

جنرل ہلال اسد کے لواحقین سے ایرانی کمانڈر کی تعزیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک آپریشن کرنے والی ملیشیا القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی شامی صدر بشارالاسد کے مقتول کزن جنرل ہلال الاسد کے لواحقین سے تعزیت کے لیے ان کے گھر دمشق پہنچ گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کا دورہ دمشق اور مقتول ہلال الاسد کے اہل خانہ سے ملاقات نہایت راز داری میں ہوئی ہے۔ اس ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان فوج اور اعلیٰ سطح پر انٹیلی جنس تعاون کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

میڈیا میں آنے والی خبروں کے ساتھ جنرل سلیمانی کی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں انہیں ہلال الاسد کی بیوہ اور اس کے چھوٹے بیٹے کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ تصویر کتنے دن پرانی ہے۔

یاد رہے کہ شامی نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ جنرل ہلال الاسد مارچ میں ترکی کی سرحد کے قریب اللاذقیہ شہرمیں باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ ان کے ساتھ کارروائی میں شامی فوج کے ساتھ دیگر اہم افسران بھی ہلاک ہوئے تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی ایرانی فوج کے اہم ترین منصوبہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بیرون ملک کارروائیوں کے ماہر ہیں۔ شام میں بغاوت کچلنے میں مدد فراہم کرنے سے قبل وہ عراق میں بھی مختلف خفیہ آپریشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ مقتول ہلال الاسد، صدر بشارالاسد کے قریبی عزیز ہی نہیں بلکہ نہایت قابل اعتماد ساتھی تھے۔ نیشنل ڈیفنس فورسز کے سربراہ کے عہدے سے پیشتر وہ ملٹری پولیس کے بریگیڈ کمانڈر اور اللاذقیہ میں فوجی آباد کاری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کے عہدوں پربھی کام کر چکے ہیں۔

صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کچلنے کے لیے طاقت کے وحشیانہ استعمال میں بھی ہلال الاسد بدنامی کی حد تک مشہور تھے تاہم آخر کار وہ خود بھی انہی باغیوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو بھی پہنچے۔