.

شام میں برطانوی جہادی کے ہاتھوں ''ننجاؤں'' کی تربیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک برطانوی جہادی کی شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں کو تربیت دیتے ہوئے ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔ان جنگجوؤں کو ''ننجا'' کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ سرتاپا سیاہ لباس میں ملبوس ہیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو میں ایک تئیس سالہ برطانوی نمودار ہورہا ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ ''دنیا میں کوئی بھی جگہ میدان جنگ سے بہتر نہیں ہے''۔اس نوجوان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ابو حفص الباکستانی (پاکستانی) کے نام سے شام میں لڑرہا تھا اور اسی ماہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔

ویڈیو میں ابوحفص پاکستانی برطانیہ کی مڈل کلاس کے لہجے میں بول رہا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ برطانیہ کے کس علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔البتہ اس کنیت اور نسبت سے یہ واضح ہے کہ وہ پاکستانی نژاد ہے۔

ایک اور ویڈیو کلپ میں ابو حفص ال پاکستانی جہاد کو اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک قراردے رہا ہے اور کہتا ہے کہ ''آپ کی اگر آپ کے سامنے موت واقع ہورہی ہے تو اس موقع پر اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا''۔

شہید کی ویڈیو

شہید نام کی اس ویڈیو میں ایک اور برطانوی جنگجو یہ بتارہا ہے کہ ابو حفص ال پاکستانی شام کے باغی گروپ جند الاقصیٰ سے تعلق رکھتا تھا۔سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وہ شام کے شمالی علاقے میں ایک گاؤں کا دفاع کرتے ہوئے اسدی فوج کے خلاف لڑائی میں مارا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں پس پردہ آواز میں بولنے والا بتا رہا ہے کہ ''اس کی عمر صرف تئیس سال تھی لیکن میدان جنگ میں وہ فوجوں کی قیادت کرنے والے ایک شیر کی طرح تھا اور وہ غالباً سب سے زیادہ نڈر ،دلیر اور تربیت یافتہ جنگجوؤں میں سے ایک تھا''۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ''چار سو سے زیادہ برطانوی مسلمانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام میں جاری لڑائی میں شریک ہیں۔اگر وہ وہاں سے لوٹتے ہیں تو وہ برطانیہ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہوں گے۔ان میں سے بیس شام میں لڑتے ہوئے مارے جاچکے ہیں''۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے العربیہ سے اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے،وہ اہل سنت اور اسد حکومت کے وفادار علویوں کے درمیان جنگ ہے۔جہادی اور خاص طور پر برطانیہ سے جنگجو اسی مقصد کے لیے شام کا رُخ کررہے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ آبزرویٹری اس طرح کے جہاد کی مذمت کرتی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ یورپیوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جہادی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عراق اور شام میں جارہی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ سے خانہ جنگی کا شکار شام میں جانے اور وہاں سے واپس آنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہواہے۔گذشتہ سال برطانوی حکام نے شام میں لڑائی میں شرکت یا اس کے لیے دوسروں کو ترغیب دینے کے الزام میں پچیس افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن 2014ء کے پہلے تین ماہ میں ہی چالیس افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

لندن سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر عبداللہ حمود کا کہنا ہے کہ ''برطانوی دارالحکومت اپنے لبرل انداز زندگی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ہر طرح کے سیاسی پناہ گزینوں کی آماج گاہ بن چکا ہے اور وہ یہاں آکر اپنی ہر طرح کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''برطانوی حکومت کی شامی صدر بشارالاسد کے خلاف اور حزب اختلاف کی حمایت میں پالیسی سے بعض انتہا پسند فائدہ اٹھا رہے ہیں''۔واضح رہے کہ برطانیہ میں گذشتہ ہفتے مشہود چودھری نامی ایک شہری کو شام میں لڑائی میں حصہ لینے کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔وہ گذشتہ سال اکتوبر میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء القاعدہ سے متاثر جنگجو گروپ کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے کے لیے گئے تھےاور انھیں واپسی پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔