.

پاپائے روم آج القدس کے تاریخی 'قیامہ چرچ' جائیں گے

چرچ کے کلید بردار کی 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عیسائیوں کے مذہبی اور روحانی پیشوا پاپائے روم فرانسیس اول آج بروز اتوار مقبوضہ بیت المقدس میں تاریخی مقدس مقام"کنیسہ القیامہ"کی زیارت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ مگر وہ اپنے طور پر چرچ میں داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار صلاح الدین ایوبی کے حکم کے پابند ہیں۔ جب تک کلید بردار فلسطینی مسلمان چرچ کے قفل نہیں کھولے گا اس وقت تک پاپائے روم بھی اپنے مقدس مقام میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں مقبوضہ بیت المقدس میں موجود عیسائیوں کے اس قدیم مرکز "کنیسہ القیامہ" کی تاریخی اور مذہبی حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق "کنیسہ القیامہ" وہ مقام ہے جس کے بارے میں عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام آخری مرتبہ کھڑے ہوئے اور یہیں سے اُنہیں حکمت ایزدی سے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ ان کے قیام کی نسبت سے وہاں پر ایک چرچ بنایا گیا، جسے "قیامہ چرچ" یا کنیسہ القیامہ کہا جاتا ہے۔


تاریخی مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے یہ چرچ سنہ 325ء میں قسطنطینی شہنشاہ کی والدہ ملکہ ھیلانہ نے تعمیر کیا۔ حضرت مسیح کے قیام کی یاد میں عیسائی روزانہ صبح اور شام اس کی چھت پر چڑھ کر کچھ لمحات کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

مشہور سپہ سالار صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح اور صلیبیوں کی شکستسے قبل اس مقدس مقام کا تمام انتظام وانصرام عیسائیوں کے پاس رہا لیکن آٹھ سو سال پیشتر یعنی 1187ء کو بیت المقدس کی صلیبیوں سے فتح کے بعد صلاح الدین ایوبی نے "کنیسہ القیامہ" کی کلید کسی عیسائی کے بجائے مسلمان خاندان کو دی اور یہ نصیحت کی اب تا ابد چرچ کی کلید اسی خاندان کے پاس رہے گی۔ آج اس چرچ کے کلید بردار 49 سالہ ادیب جواد جودہ ہیں۔ جواد کے آباؤ اجداد نے صدیوں سے عیسائی عبادت گاہ کی کلید سنھبال رکھی ہے اور بغیر کسی تنازع کے وہ اپنی اولاد کو یہ امانت سونپتے چلے جاتے ہیں۔

صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد بیت المقدس کے حکمران یکے بعد دیگرے تحریری طور پر کلید بردار خاندان کی توثیق کرتے اور صلاح الدین ایوبی کی وصیت کو آگے بڑھاتے رہے۔

پاپائے روم بیت المقدس میں "کنیسہ القیامہ" کے دورے سے پہلے اردن میں"بپتسمہ" کی زیارت کی۔ یہ جگہ دریائے اردن پر واقع ہے اس کے بارے میں مشہور ہے کہ حضرت مسیح نے اس کی زیارت کی اور یحیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے اور اپنے سر پر دریا کا پانی ڈالا تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہیردوس بادشاہ نے حضرت یحیٰ کا سر قلم کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کٹا ہوا سر دمشق میں دفن کیا گیا، جہاں جامع مسجد العمری تعمیر کی گئی ہے۔

کلیسہ کی کلید برداری

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیت المقدس کے رہائشی اور کلید برادر "کلیسا" ادیب جواد جودہ سے فون پربات کی۔ انہوں نے چرچ اور کلید برداری کے بارے میں نہایت دلچسپ گفتگو کی۔ ادیب نے بتایا کہ "کنیسہ القیامہ" کے دو دروازے ہیں۔ ایک دائیں اور دوسرا بائیں جانب ہے۔ دائیں جانب کا دروازہ 827 سال سے صلاح الدین ایوبی کے حکم اور نصیحت کے تحت بند ہے جبکہ بائیں جانب پانچ میٹر اونچا اور تین میٹر چوڑا دروازہ کھلا ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جس کی چابی ایک فلسطینی مسلمان خاندان کو دی گئی۔

جودہ نے بتایا کہ صلاح الدین نے کلیسا کی کلید مسلمان خاندان کو اس لیے دی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ صلیبی ایک مرتبہ پھر بیت المقدس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ ان کے حکم پر چرچ کا ایک دروازہ مستقل طور پر بند کردیا گیا اور آج تک بند ہے۔ کسی عیسائی پوپ نے آج تک اس کے کھولے جانے کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ جہاں تک مسلمان خاندان کو کلید بردار بنانے کا تعلق ہے تو صلاح الدین ایوبی نے یہ کام ایک ایسے خاندان کو سپرد کیا جو مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کا متولی تھا۔ مسجد اقصیٰ کا متولی ہی عیسائیوں کی مقدس عبادت گاہ کی حفاظت کی ذمہ داری نبھا سکتا تھا۔

جواد جودہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ ذمہ داری کسی اور کو دینے کا سوچ سکتے ہیں تو انہیں کہا کہ "مجھے فخر ہے کہ میں صلاح الدین ایوبی کی نصیحت کے مطابق آج عیسائیوں کے مقدس مقام کا کلید بردار ہوں۔ یہ اعزاز میرے لیے دنیا و ما فیھا سے بہتر ہے۔ اگر مجھے ساری دنیا کا مال ودولت بھی دے دیا جائے اور کہا جائے کہ میں کلید نیلام کردوں یا کسی اور کو دے دوں تو مجھے یہ منظور نہیں ہو گا۔ جواد خود شادہ شدہ ہیں اور اس کے تین بچے ہیں۔ وہ خود بیت المقدس میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہے۔


اس نے مزید بتایا کہ چرچ کو روزانہ صبح اور شام باقاعدگی سے کھولا جاتا ہے۔ دروازے کے دو تالے ہیں۔ اوپر والے تالے کو کھولنے کے لیے سیڑھی استعمال کی جاتی ہے۔ جب میں خود موقع پر موجود نہیں ہوتا تو اپنے قریب ترین کسی عزیز کو یہ ذمہ داری سونپتا ہوں جو میری جگہ باقاعدگی سے چرچ کو کھولتا اور مقررہ وقت پر اسے بند کرتا ہے۔ عام طور پر صبح کے چار بجے اور رات آٹھ بجے چرچ کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔

جواد نے بتایا کہ اس کے خاندان کے پاس کلید کلیسا کی توثیق کے حوالے سے 165فرامین موجود ہیں۔ یہ تمام فرامین مختلف حکمرانوں کے ہیں جو ان کے خاندان کو دیے گئے۔

کلید برادر سے جب پوچھا گیا کہ اگر پاپائے روم نے دورہ چرچ کے موقع پر آپ سے چرچ کی کلید کا تقاضا کر بیٹھیں تو کیا کرو گے؟ تو اس نے لمبی سانس لی اور کہا کہ پاپائے روم مجھ سے کلید نہیں لے سکتے۔ اگر وہ مجھ سے مانگ بھی لیں تو میں انہیں کیوں دوں گا؟۔ میرے لیے تو یہ کلید پوری دنیا سے زیاہ قیمتی اور اہم ہے۔