مصر: صدارتی انتخاب، السیسی آگے، ایک حامی جاں بحق

ووٹنگ کل بھی جاری رہے گی، سخت سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی معزولی کے تقریبا گیارہ ماہ بعد مصر میں باضابطہ صدارتی انتخاب کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات میں پہلے دن کی ووٹنگ جاری ہے۔ صدارتی امیدواروں کے طور پر سابق فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حمدین صباحی میدان میں موجود ہیں۔

ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والی انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق فیلڈ مارشل السیسی جو پہلے مصری تارکین وطن کی طرف سے ڈالے گئے ووٹوں کا 94 فیصد حاصل کر چکے ہیں۔ آج بھی انہی کے آگے رہنے کا امکان ہے۔ ان کے واحد مدمقابل حمدین صباحی 2012 کے صدارتی انتخاب میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔ وہ انوارالسادات اور حسنی مبارک کے ادوار میں مجموعی طور پر 17 بار گرفتار ہو چکے ہیں۔

بعض جگہوں پر نا خوشگوار واقعات کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں سب سے اہم صدارتی امیدوار عبدالفتاح السیسی کے ایک حامی کی ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ہلاکت فائرنگ کے ایک واقعے میں ہوئی ہے۔ تاہم تفصیلات کا ابھی انتظار ہے۔

پچھلے صدارتی انتخاب میں محمد مرسی کی جیت کا باعث بننے والی اخوان المسلمون چھ ماہ پہلے ہی دہشت گرد قرار دے دی گئی تھی، جبکہ اس سے وابستہ 15000 سے زائد کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ اخوان کے خلاف قانون قرار دیے جانے کے بعد عبدالفتاح السیسی کی جیت کی راہ عملا ہموار ہو چکی ہے۔ السیسی نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں بھاری ٹرن آوٹ کی توقع ظاہر کی ہے۔ ووٹنگ کا سلسلہ کل بھی جاری رہے گا۔

اخوان المسلمون اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو روکنے اور انتخابی عمل میں خلل روکنے کیلیے عبوری حکومت نے سخت سکیورٹی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اب تک ایک ہزار سے زائد اخوان کارکنوں کو سزائے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں