"بشار الاسد اور حزب اللہ شام میں فتح مند ہوں گے"

لبنان میں مزاحمت مخالف صدر قبول نہیں: حسن نصراللہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان میں سرگرم شدت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری الشیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت شام میں صدر بشارالاسد کے ساتھ ہے اور وہ مل کر دشمنوں کی مسلط کردہ جنگ میں فتح حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں مزاحمت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا صدر قابل قبول نہیں ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنہ 2000ء میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء چودہ برس مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام صدارتی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اندرونی اور بیرونی سازشیں اور مخالفین کا استہزاء انتخابات کو ناکام نہیں بنا سکتا۔

بقول حسن نصر اللہ: "وہ دن اب آیا ہی چاہتا ہے جب شام کے خلاف سازشیں کرنے والے اور حامی سب اکھٹے ہوں گے۔ یہ صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کی فتح کا دن ہو گا۔ شامی قوم اس دن کو "یوم تشکر" اور فتح و نصرت کا جشن منائے گی جبکہ دشمن سر جھکائے اپنی شرمندگی چھپا رہے ہوں گے۔ آج لبنان میں بہت سے لوگ ہمیں شام میں مداخلت پر لعن طعن کرتے ہیں۔ کل فتح ونصرت کے روز وہ بھی کہیں کہ 'آپ نے بہت اچھا کیا تھا'۔

حسن نصراللہ کا مزید کہنا تھا کہ شام کی جنگ میں موجودہ لمحہ صبر، برداشت، پرعزم مزاحمت اور دشمن کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے کا تقاضہ کرتا ہے۔ ہم فتح اور نصرت کے خاکے میں رنگ بھر رہے ہیں۔ شام مزاحمت کی علامت کے طور پر قائم رہے گا۔ وہاں معمول کے مطابق انتخابات ہوں گے اور سازشیں کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ وہ اپنی تمام تر چالوں کے علی الرغم انتخابی عمل کو سبوتاژ نہیں کر سکیں گے۔

اس موقع پر حزب اللہ کے سربراہ نے ملک کے سیاسی حلقوں کی جانب سے لبنان میں صدارتی انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ تو یہ چاہتی ہے کہ ملک میں سیاسی خلاء نہ رہے اور صدر مملکت کا انتخاب جلد از جلد عمل میں لایا جائے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ لبنان میں ایسی شخصیت صدر منتخب ہو جو مزاحمت کے خلاف سازش نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے انتخاب میں ناکامی کی ذمہ دار پارلیمنٹ ہے۔ ہم نے کبھی بھی ملک کے سیاسی عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

ایک گھنٹے سے زیادہ وقت پر محیط اپنی تقریر میں حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمیں صدر کی جانب سے مزاحمت کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے۔ مزاحمت خود ریاست، قوم، وطن اور ریاست اور اس کی بالادستی کی محافظ ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ صدر مزاحمت کی پیٹھ میں خنجر نہ گھونپے۔

خیال رہے کہ لبنان میں چھ سال تک صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہنے والے میشل سلیمان گذشتہ ہفتے اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد گھر واپس چلے گئے ہیں لیکن ان کی جگہ ابھی تک کوئی نیا صدر منتخب نہیں کیا جا سکا۔ پارلیمنٹ نے گذشتہ دو ماہ کے دوران صدر کے انتخاب کے لیے کوشش کی تھی لیکن سیاسی گروپوں میں اختلافات کے باعث صدر کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں