.

مصر: صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ میں ایک دن کی توسیع

بہتر ٹرن آؤٹ کے لیے عام تعطیل، ملک بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سپریم صدارتی الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں ایک دن کی توسیع کردی ہے اور اب بدھ کو بھی مصری ووٹر نئے صدر کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

صدارتی انتخاب میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اور حمدین صباحی کے درمیان یک طرفہ مقابلہ ہے اور اول الذکر طاقتور سابق فوجی سربراہ کی واضح اکثریت سے کامیابی یقینی ہے۔

عبوری حکومت نے پیر اور منگل کو صدارتی انتخاب میں ووٹوں کی بلند شرح کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا لیکن آج دوسرے روز بھی بیشتر پولنگ مراکز میں ووٹروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

پولنگ میں عوامی جوش وخروش نہ ہونے ایک وجہ اخوان کی منفی مہم ہے ۔اس کے علاوہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے پیش نظر بھی شہریوں نے ووٹ ڈالنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ رہنے کو ترجیح دی ہے ۔سخت ترین سکیورٹی انتظامات سے بد امنی یا دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ تو رونما نہیں ہوا لیکن نوجوان ووٹروں کو بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنوں کی طرف جانے کی ان کے والدین نے حوصلہ افزائی نہیں کی۔

واضح رہے کہ مصر میں یہ صدارتی انتخابات جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر محمد مرسی کی فوج کے سربراہ (تب) جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں جولائی 2013 میں برطرفی کے دس ماہ کے بعد ہورہے ہیں۔

عبدالفتاح السیسی نے مرسی کو معزول کرنے کے بعد انتقال اقتدار کے بعد ایک نقشہ راہ دیا تھا اور عدلیہ کے سربراہ عدلی منصور کی صدارت میں ایک عبوری حکومت بنائی تھی اور اس میں وزارت دفاع کا قلم دان خود سنبھال لیا تھا۔

اس عبوری حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز نے اگست 2013 میں ملک کی سب سے منظم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاون کیا تھا۔اخوان کا دعوی ہے کہ اس کریک ڈاون کے دوران صرف ایک دن میں اس کے 2200 سے زیادہ کارکنان مارے گئے تھے جبکہ سرکاری طور پر اس تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی تھی ۔عبوری نائب صدر محمد البرادعی نے ان حالات میں عبوری حکومت سے استعفی دے دیا۔

اسی کریک ڈاون میں اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت کو ہزاروں کارکنوں سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا جن کی تعداد اب 15000 سے متجاوز بتائی جاتی ہے۔ اخوان المسلمون پر دوسرا بڑا وار ماہ دسمبر میں اسے دہشت گرد جماعت قرار دے کر کیا گیا جس سے اس کی طاقت مزید کمزور پڑ گئی۔اس دوران جنرل عبدالفتاح السیسی ملک کے پہلے فیلڈ مارشل بن گئے تھے اور ملک کے لیے عبوری آئین کی بھی منظور دے دی گئی تھی۔

ماہ فروری میں مصری مسلح افواج کی سپریم کونسل نے فیلڈ مارشل کو صدارتی انتخاب لڑنے کا گرین سگنل دیا تھا اور مارچ میں فیلڈ مارشل السیسی نے فوجی سربراہی سے استعفا دے دیا تھا۔ مارچ اور اپریل میں اخوان المسلمون کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں کو عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی اور مزید سیکڑوں کارکنوں کو قید وبند کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

دوسری جانب سابق فوجی سربراہ صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار کے طور پر سامنے آگئے۔ انہیں پہلے مرحلے پر کامیابی یہ ملی کہ ان کے خلاف صرف ایک امیدوار سامنے آیا۔ایک ہفتہ قبل 18 مئی کو دوسرے ممالک میں مقیم مصری تارکین وطن نے صدارتی منصب کے لیے السیسی کو 94 فی صد سے بھی زائد ووٹ دیے تھے۔

عرب دنیا کا ہر اہم ملک مصر کے صدارتی انتخاب میں السیسی کی کامیابی کے حق میں ہے اور ان کی کامیابی بھی یقینی ہے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار حمدین صباحی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کوئی بہت زیادہ ووٹ نہیں لے سکیں گے۔