.

آیئے! مصر کے صدارتی محل کی سیر کو چلیں

قصر الاتحادیہ کس کا مسکن بنتا ہے، فیصلہ آج ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری فوجی حکومت کی زیر نگرانی ہونے والے صدارتی انتخاب کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔ ساری قوم کی نظریں صدارتی انتخاب کے نتائج پر ہیں۔ ایسے میں دارلحکومت قاہرہ میں مصری ایوان صدر کی صفائی ستھرائی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

قصر اتحادیہ کا آئینی حقدار تو شاید ایک آدھ دن بعد ہی اس میں قدم رنجاں کرے، آئیے آپ کو اس کی سیر کراتے ہیں۔

ویسے تو مصر میں کئی صدارتی محلات ہیں مگر 'الاتحادیہ پیلس' گذشتہ کچھ عرصے مصری صدور کا ہیڈکواٹرز چلا آ رہا ہے۔ اس لیے اب کی بار بھی منتخب ہونے والا صدر اسی محل کو رونق بخشے گا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر 'العربیہ' ٹی وی نے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے محل کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت روشنی ڈالی ہے۔

قصر الاتحادیہ یا اتحادیہ محل مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے پوش علاقے ہلیو پولس میں واقع ہے۔ اس کی عمر ایک سو چار سال ہو چکی ہے۔ سنہ 1910ء میں یہ عمارت 'گرینڈ ہوٹل' کے نام سے ایک ریستوران کے لیے بنائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے ایوان صدر میں تبدیل کر دیا گیا۔ محل میں 400 کمرے،55 فلیٹس اور کئی بڑے ہال ہیں۔ مرکزی ہال 600 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کے عین سامنے 55 میٹر اونچا ایک گنبد اس کی رونق اور خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں قصر ہلیو پولس عالمی شخصیات کی آمد ورفت کا مرکز رہا۔ کچھ عرصہ اسے ملٹری اسپتال اور ملٹری اکیڈیمی کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ سنہ 1960ء کے عشرے میں عمارت میں متعدد وزارتیں اور اہم محکموں کے دفاتر منتقل کیے گئے۔

سنہ 1972ء میں انور سادات کے دور حکومت کے دوران "قصر الاتحادیہ" شام ، مصر اور لیبیا کا مشترکہ ہیڈ کواٹرز قرار پایا جس کی وجہ سے اس کا نام "قصر ہلیو پولس" کے بجائے "قصر الاتحادیہ" اور "قصر العروبہ" رکھا گیا۔ آج تک اس محل کے یہ دونوں نام مستعمل ہیں۔

سنہ 1980ء کی دہائی میں محل کے قدیم تعمیراتی ڈھانچے کے تحفظ کا ایک منصوبہ شروع ہوا ،جس کے بعد معزول صدر حسنی مبارک نے اسے اپنا مسکن بنایا۔ وہ صرف سرکاری تقریبات کے لیے اسے ایوان صدر کے طور پر استعمال کرتے رہے۔

جنوری 2011ء میں جب حسنی مبارک کے خلاف انقلاب کی تحریک چلی تو عوامی مظاہروں کا رُخ اسی محل کی جانب تھا تا آنکہ حسنی مبارک نے عوام کے مطالبے پر استعفیٰ دے دیا۔

اخوان المسلمون کے حمایت ہافتہ ڈاکٹر محمد مرسی صدر بنے تو انہوں نے بھی "قصر الاتحادیہ" ہی کو ایوان صدر کے طور پر استعمال کیا۔ چار دسمبر 2012ء کو ان کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر اٹھی۔ یہ احتجاج اسی سال 22 نومبر کو نئے دستوری اعلان کے خلاف عوام کا رد عمل تھا۔

احتجاج کا سلسلہ مزید پھیلتا چلا گیا اور آخر کار تیس جون سے تین جولائی 2013ء کے درمیان عوامی دباؤکے بعد محمد مرسی کو اسی محل میں محصور کر دیا گیا۔ فوج نے ملک کی سیاسی باگ ڈور اپنے ذمہ لی اور ملک کے پہلے منتخب آئینی صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو اسی محل سے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔

صدارتی محل میں بڑے طمطراق سے اترنے والے کسی بھی سابق مرد آہن کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ دیکھنا یہ ہے کہ قصر اتحادیہ کو رونق بخشنے والے نئے مہمان کا انجام کیا ہو گا۔