.

"فلسطینی، اسرائیلی صدور میرے ساتھ نماز ادا کریں"

پاپائے روم فرانسیس کی امن کے لئے مخلصانہ پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم فرانسیس اول نے فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے اسرائیلی ہم منصب شمعون پیریز پر زور دیا ہے کہ وہ امن کی خاطر ہر قسم کے اختلافات بھلاتے ہوئے ویٹی کن میں ان ساتھ نماز ادا کریں۔

یہ بات گذشتہ روز اسرائیلی صدر سے ملاقات سے قبل مقبوضہ غرب اردن کے شہر بیت لحم میں اسرائیل کی تعمیر کردہ دیوار فاصل کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب میں کہی۔

خبر رساں ادارے"اے ایف پی" کے مطابق پوپ فرانسیس اول نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی خاطر فلسطین اور اسرائیل کی قیادت کو اپنے اندر صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہونا ہو گا۔ "میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اوراسرائیلی صدر شمعون پیریز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور امن کے لیے میرے ساتھ ویٹی کن میں نماز ادا کریں۔ اگر اس طرح امن قائم ہو سکتا ہے تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔ میں مشترکہ نماز کے لیے میں ویٹی کن میں اپنا گھر پیش کروں گا۔"\

انہوں نے کہا کہ ہم سب خطے میں دیرپا قیام امن کا خواہاں ہیں۔ خطے میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو امن کے لیے روازنہ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں، لیکن بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو بدامنی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ صبر اور برداشت ہی سے ہم نیا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں"۔

پوپ کی اس دعوت پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے تو فوری ردعمل سامنے آیا ہے مگر اسرائیلی صدر ابھی تک خاموش ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے"اےایف پی" کو بتایا کہ محمود عباس، پاپائے اعظم کی دعوت پر ویٹی کن کے دورے کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ انہوں نے چھ جون کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی ایوان صدر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں پوپ کی دعوت کا خیر مقدم تو کیا گیا ہے مگر ایسی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ صدر شمعون پیریز پوپ کی ویٹی کن دورے کی دعوت قبول کریں گے یا نہیں۔

قبل ازیں ویٹی کن کے ترجمان پوپ فیڈیریکو لومبارڈی نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ پاپائے روم فرانسیس اول جلد ہی اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پیریز فرانسیس اول کا حد درجہ احترام کرتے ہیں، لیکن یہ موقع ان کے لیے زیادہ پیچیدہ ہے کہ آیا وہ ویٹی کن کی دعوت قبول کریں گے یا نہیں۔

چونکہ پاپائے روم کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی صدور کو ویٹی کن کی دعوت اتوار کے روز دی گئی تھی، اس لیے اسرائیل کے جواب میں سوموار کا پورا دن شامل تھا۔ آخری اطلاعات تک اسرائیلی صدر نے دعوت قبول یا مسترد کرنے بارے کوئی اشارہ نہیں دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار صائب عریقات نے محمود عباس کے دورہ ویٹی کن کے لیے چھ جون کی تاریخ کا اعلان کیا ہے مگر ویٹی کن کے ترجمان لومبارڈی نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

ترجمان نے پاپائے روم کے دورہ بیت لحم کے دوران اسرائیل کی دیوار فاصل کے قریب قیام اور فلسطینی بچوں سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کے شیڈول میں دیوار فاصل کے قریب جانے کا کوئی پروگرام شامل نہیں تھا۔ یہ فیصلہ عیسائیوں کے "سواد اعظم" کا ذاتی تھا،اس کے بارے میں ویٹی کن کو نہیں بتایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاپائے روم کا اسرائیل کی نسلی دیوار کے قریب کھڑے ہو کر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی سربراہان کو مشترکہ نماز کی دعوت دینا اپنے اندر ایک خاص پیغام رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ پوپ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کےدرمیان تنازعات کے حل کے لیے "پُل" کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔