.

بیروت میں بشار کے حامی ووٹروں کا مظاہرہ

متحدہ عرب امارات کی شامی تارکین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدارتی انتخاب تین جون کو متوقع ہیں اور بشارالاسد تیسری مرتبہ پھر سات سالہ صدارتی مدت کے لیے امیدوار کے طور پر موجود ہیں۔ ان کے مقابل دو کم معروف قانون دان 46 سالہ ماہر عبدالحفیظ حجاراور 54 سالہ حسن بن عبداللہ النوری امیدوارہیں۔

امکان غالب ہے کہ بشارالاسد اگلے سات برسوں کے لیے اپنی صدارت پکی کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ وسطی بیروت میں قائم شامی سفارت خانے کے باہر جمع ہونے والے بشار الاسد کے حامی اس امید کا اظہار کر رہے تھے کہ بشار ہی جیتیں گے۔

دوسری طرف شام کا اپوزیشن اتحاد اور اس کے مغربی اتحادی شامی انتخابات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک شام کے صدارتی انتخابات محض ملمع کاری ہیں۔ جبکہ حکومت تین برسوں سے زاید پر پھیلی خانہ جنگی کے مسئلے کا حل اس انتخاب کو سمجھتی ہے۔

ایک روز قبل ہی شامی رجیم نے کہ ہے کہ عرب امارات نے شامی تارکین وطن کو صدارتی انتخاب کیلیے ووٹ ڈالنے سے روک دیا ہے۔ اس سے پہلے فرانس، جرمنی اور بیلجیم بھی یہ اقدام کر چکے ہیں۔

شامی وزارت خارجہ کے مطابق خلیجی ممالک میں شام کے تیس ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹر موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر شام کے 39 سفارت خانوں کے پاس دولاکھ سے زائد ووٹروں کا اندراج موجود ہے۔