خلیج تعاون کونسل: اقتصادی و فوجی ترقی خوش آئند ہے

33 ویں سالگرہ پر سیکرٹری جنرل عبدالطیف الراشد الزیانی پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج تعاون کونسل کی 33 ویں سالگرہ کے موقع پر اس کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ممبر ممالک کے درمیان معاہدات اور علاقائی تعاون میں مزید بہتری آئے گی۔

'' العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالطیف بن راشد الزایانی نے کہا '' تعاون کونسل نے اپنے ارکان کو انتہائی مشکل صورت حال میں جوڑ رکھا ہے۔''

سیکرٹری جنرل نے مزید کہا ''تعاون کونسل کے ارکان نے مل کر کام کرتے ہوئے اقتصادی، فوجی اور سیاسی میدانوں میں ترقی کی منازل طے کی ہیں، اس لیے رکن ممالک کے شہری امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں جی سی سی مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔

عبدالطیف الراشد نے کہا '' 1981 میں جی سی سی کا قیام ایرانی شییعت کے مقابل ایک رکاوٹ کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا، اس فورم پر وہ سنی ریاستیں جمع ہیں جو دنیا کا چالیس فیصد خام تیل اور 25 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔''

جی سی سی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حماد المرا نے کہا '' ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے جی سی سی کو ایک یونین کی صورت میں اکٹھا کرنے کوششیں بعض دوسرے ممالک کے تعاون سے کامیاب ہوں جائیں گی۔''

واضح رہے خلیجی ممالک کو مملکتی یونین کے طور پر متحد کرنے کی تجویز خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے پیش کی تھی تاکہ ممبر ممالک کے درمیان تعاون مزید مستحکم ہو سکے۔ 2011 میں یہ تصور سامنے آنے پر بحرین نے سب سے پہلے اس کی حمایت کی تھی۔

تاہم بعض دوسرے ممالک نے جی سی سی کو یونین بنانے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ مسقط نے اس بارے میں دسمبر 2013 میں اختلاف رائے کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں