تفتیشی شعبوں میں سعودی خواتین اہلکاروں کی فوری ضرورت

شوری کونسل کی رکن سمیت قانونی اور سکیورٹی ماہرین کی بھی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے سکیورٹی امور کے ماہرین نے خواتین تفتیش کاروں کی فوری ضرورت کی نشان دہی کی ہے۔ تاکہ حساس نوعیت کے مقدمات کے علاوہ خواتین کے ساتھ زیادتی اور ہراساں کیے جانے سے متعلق مقدمات کی بھی تحقیقات کو تیزی سے آگے بڑحایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق بہت سی مصیبت زدہ خواتین مرد تفتیش کاروں کے سامنے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تفصیل سامنے لاتے ہوئے شرمندگی اور سبکی محسوس کرتی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں مقدمات میں مظلوم ہونے کے باوجود انصاف ملنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب میں اس وقت خواتین کے لیے بنائی گئی جیلوں میں خواتین اہلکار بھرتی کی گئی ہیں۔ سکیورٹی امور کے ایک ماہر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا ''خواتین تفتیش کاروں کے آنے سے خواتین سے متعلق مقدمات میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔''

مذکورہ ماہر نے ایسے متعین مقدمات کا حوالہ بھی دیا جن میں مدعیہ خواتین نے مرد تفتیش کاروں کے سامنے بیان دینے اور تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔

سعودی شوری کونسل کی رکن ثریا الاوراید نے تفتیشی مقاصد کے لیے خواتین اہلکاروں کی بھرتیاں لازمی ضرورت قرار دیں۔ ان کا کہنا تھا '' بعض اوقات پولیس تھانے اس لیے خواتین کی شکایت پر مقدمات کے اندراج سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں خواتین کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ''

ثریا الاوراید نے تجویز کیا '' سکیورٹی سے متعلق کالجز میں خواتین کے لیے خصوصی شعبے قائم کیے جائیں جہاں خواتین کو تفتیش اور تحقیقات کرنے کی تربیت دی جائے۔'' قانونی امور کے ماہر احمد عثمان نے بھی اس ضرورت پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں