.

شامی تارکین وطن کے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے پر پابندی

فرانس اور بلجیئم کے بعد متحدہ عرب امارات بھی فیصلے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ہاں مقیم شامی تارکین وطن کو صدارتی انتخابات میں حق رائے دہی سے روک دیا ہے۔ یاد رہے کہ موجود صدر بشار الاسد بھی یہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ صدارتی انتخابات کے شیڈول کے مطابق آج [بدھ] کو بیرون ملک شامی باشندے صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے لیکن متحدہ عرب امارات نے دیگر شام مخالف ملکوں کی طرح اپنی ہاں مقیم شامی تارکین وطن کو انتخاب میں حصہ لینے سے منع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں صدارتی انتخابات کے لیے تین جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، لیکن اقوام متحدہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور شامی اپوزیشن صدارتی انتخابات کو "ڈھونگ" قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ شام میں موجودہ حالات میں صدارتی انتخابات کا انعقاد بشار الاسد کو خون خرابے کے باجود مزید اقتدار میں رہنے کا موقع فراہم کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ شامی اپوزیشن کی حمایت کرنے والے کئی ملکوں نے اپنے ہاں مقیم تارکین وطن کو شام کے صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی۔ ان میں بیلجیئم، فرانس اور جرمنی سر فہرست ہیں۔