.

مصر: حمدین صباحی کا صدارتی انتخاب میں اعترافِ شکست

صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح 46 فی صد تک پہنچ گئی: عدلی منصور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کے امیدوار حمدین صباحی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق ان کے حریف مسلح افواج کے سابق سربراہ عبدالفتاح السیسی 93 فی صد ووٹ لے کر ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

حمدین صباحی نے جمعرات کو دارالحکومت قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''میں اپنی شکست تسلیم کرتا ہوں اور عوام کے انتخاب کا احترام کرتا ہوں'' لیکن انھوں نے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی کم شرح پر ملک کے سراغرساں اداروں کا مذاق اڑایا ہے۔انھوں نے کہا:''ووٹر ٹرن آؤٹ کے سرکاری اعداد وشمار مصری انٹیلی جنس کی توہین ہیں''۔

مصر میں دو سال سے بھی کم عرصے میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں دو مرتبہ شکست سے دوچار ہونے والے حمدین صباحی کا کہنا ہے کہ ''وہ مطلق العنانیت اور کرپشن کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے اور دہشت گردی کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے''۔

مصر کے عدالتی ذرائع کے مطابق عبدالفتاح السیسی نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 93.3 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔حمدین صباحی کے حق میں صرف تین فی صد ووٹ پڑے ہیں جبکہ 3.7 فی صد ووٹوں کو مسترد کردیا گیا تھا لیکن یہ تمام نتائج غیر حتمی ہیں اور مصر کے صدارتی الیکشن کمیشن نے ابھی حتمی اور تصدیق شدہ نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے۔

دریں اثناء مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ 46 فی صد تک پہنچ گیا ہے۔گذشتہ روز صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے تیسرے روز کے اختتام کے چند گھنٹے کے بعد ہی عبدالفتاح السیسی کی 97.7 ووٹوں کے ساتھ شاندار کامیابی کی اطلاع سامنے آگئی تھی۔

مصری روزنامے الاہرام نے الیکشن کمیشن کے ایک رکن طارق الشبلی کے حوالے سے بتایا کہ پانچ کروڑ چالیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے قریباً دو کروڑ دس لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔اس طرح ووٹ ڈالنے کی شرح قریباً انتالیس فی صد رہی ہے لیکن اب عبوری صدر کہہ رہے ہیں کہ یہ شرح چھیالیس فی صد ہوگئی ہے۔اگر اسی طرح ووٹ ڈالنے کی شرح بڑھتی رہی تو حتمی نتائج کے اعلان تک توقع ہے پچاس فی صد سے بڑھ جائے گی۔

صدارتی انتخاب کے لیے تین روز تک پولنگ جاری رہی تھی لیکن اس دوران مصری ووٹروں اور خود سابق آرمی چیف کے حامیوں نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نہیں نکلے ہیں حالانکہ نومنتخب صدر صاحب کے حامی نیوز اینکر اور میڈیا پرسنز اپنے پروگراموں اور ٹاک شوز میں انھیں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے ''ترغیب وترہیب'' سے کام لیتے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے بہ قول عبدالفتاح السیسی کے حامی ٹی وی میزبان بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہے تھے۔اس کا اندازہ مصر کے ایک معروف ٹی وی ٹاک شو کے میزبان عمرو ادیب کی گفتگو سے کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے مصریوں سے کہا کہ ''اگر آپ ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلے تو آپ سیدھے جیل میں جاؤ گے اور محمد مرسی دوبارہ برسراقتدار آجائیں گے''۔

لیکن صدارتی انتخاب میں زیادہ ٹرن آؤن کے لیے عبدالفتاح السیسی اور ان کے حامیوں کی اپیلیں صدابہ صحرا ثابت ہوئی ہیں اور وہ صدارتی انتخاب میں مصر کے تمام طبقات کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صدارت کی ساکھ پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ السیسی عام ووٹروں کو اپنے حالیہ انٹرویوز میں متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح ایجنڈا پیش نہیں کیا تھا۔خاص طور پر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے انھوں نے کوئی پروگرام نہیں دیا ہےجس کی وجہ سے مصریوں کی اکثریت نے ان کے حق میں ووٹ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا ہے جبکہ بہت سے مصریوں نے ان کے حالیہ بیانات اور طرزعمل کے پیش نظر اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ سابق معزول صدر حسنی مبارک کی طرح ملک کو چلائیں گے اور اس طرح ایک مرتبہ پھر مطلق العنان حکمرانی کا دور دورہ ہوجائے گا اور جمہوریت ڈراؤنا خواب بن جائے گی۔