.

اسرائیلی پولیس کا چیری توڑنے پر فلسطینی طالبات پر تشدد

انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی کالونیاں فلسطینیوں کے لیے ہمہ نوع مسائل کا باعث تو بنتی ہیں لیکن ان کالونیوں میں آباد کیے گئے یہودی، فلسطینی اسکول کی طالبات کو بھی نام نہاد الزامات کے تحت راہ چلتے روک کر ہراساں کرنے سے باز نہیں آتے۔

اسی نوعیت کا ایک تازہ شرمناک واقعہ حال ہی میں غرب اردن کے تاریخی شہر الخلیل کے جنوب میں یطا کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب اسکول کے ایک امتحانی سینٹر سے سے واپس آنے والی طالبات کوایک یہودی آبادکار نے "چیری" توڑنے کے الزام میں روک لیا۔ انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا جس نے انہیں کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا اور ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔ چاروں طالبات نور، ورندہ مخامرہ، دلال عوض اور انشراح ابو جندیہ کی عمریں گیارہ سے تیرہ سال کے درمیان ہیں۔

حال ہی میں وہ الخلیل شہر کے ایک دور افتادہ گاؤں کے ایک اسکول میں قائم امتحانی سینٹر سے واپس گھر کو لوٹ رہی تھیں کہ "ماعون" یہودی کالونی کے ایک آباد کار نے انہیں راستے میں روک لیا۔ اس نے طالبات پر الزام عائد کیا کہ وہ اس کے باغ سے چیری کے پھل توڑ رہی تھیں، حالانکہ اس کے پاس بچیوں پر الزام تراشی کا کوئی ثبوت بھی نہیں تھا۔

یہودی آبادکار نے فوری طور پر اسرائیلی فوجیوں کو آگاہ کیا۔ فوجیوں نے تو اس پر کوئی ایکشن نہ لیا تاہم یہودی آبادکار کے واویلے پر اسرائیلی پولیس کی پٹرولنگ پارٹی فورا اس کی مدد کو پہنچی۔ پولیس نے چاروں بچیوں کو ایک گاڑی میں ڈالا اور ایک مقامی پولیس سینٹر لے آئے، جہاں انہیں مارا پیٹا بھی گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس نے انہیں آٹھ گھنٹے تک ایک تفتیشی مرکز میں رکھا۔ یہودی آبادکار کی سفارش پر گرفتار کرائی گئی کم سن فلسطینی طالبات کے بارے میں اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم"بتسلیم" کو پتہ چلا تو اس نے فوری مداخلت کرکے فلسطینی بچیوں کو صہیونی پولیس کی غنڈہ گردی سے نجات دلائی۔

صہیونی انسانی حقوق گروپ کی جانب سے انٹرنیٹ پرایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں فلسطینی شہریوں کی املاک، فصلوں اور باغات پر یہودیوں کو حملے کرتے دکھایا گیا ہے۔ نمونے کے طور پر تیار کی گئی اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں آباد فلسطینی یہودیوں کے لیے کم خطرہ لیکن یہودی آبادکار مقامی فلسطینی آبادی کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے لیے یہودی آباد کاروں کے بیانات 'فیصلہ کن' موقف کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے اشاروں پر کسی بھی وقت کسی بھی فلسطینی کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔