.

امریکی شہری کے شام میں خودکش حملے کی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انصار الاسلام نامی تنظیم کے پرچم تلے بشار الاسد حکومت کے خلاف بر سر پیکار النصرہ فرنٹ کے حامیوں نے ادلب شہر میں سرکاری فوج کے ایک ٹھکانے پر خودکش ٹرک حملے کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو کے سب ٹائیٹل میں بتایا گیا ہے کہ ٹرک حملہ 'ابو ھریرة' کے کوڈ نام سے جانے والے ایک امریکی شہری نے کیا ہے۔

خودکش حملے کی بیان کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ٹرک میں سولہ ٹن وزنی دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ اس کا ہدف ادلب شہر کا الفنار ہوٹل تھا، جسے شامی فوج اپنے اڈے کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔

امریکی حکام نے بتایا کہ ابو ھریرہ کوڈ نام سے ادلب میں خودکش دھماکا کرنے بمبار امریکی شہری تھا اور اس کا تعلق ریاست فلوریڈا سے ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ادلب خودکش بمبار امریکی شہری تھا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ خودکش بمبار کی پرورش فلوریڈا میں ہوئی، تاہم انہوں نے حملہ آور کی اصل شناخت یہ کہتے ہوئے بتانے سے انکار کر دیا کہ ابھی بمبار کے اہل خانہ سے تفتیش جاری ہے اور ایسے میں اس کی شناخت ظاہر کرنا تفتیشی عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'ابو ھریرة امریکی' کا تعلق ان امریکیوں سے تھا کہ جن پر ایف بی آئی اور سی آئی اے سمیت دوسرے سیکیورٹی ادارے امریکا سے بیرون ملک سفر کے بعد سے مسلسل ٹریک کر رہے تھے۔ یہ افراد امریکا سے بشار الاسد مخالف جہادی گروپوں کے ساتھ ملکر دمشق حکومت کے خاتمے کا عزم لیکر شام آئے تھے۔

ادھر امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی شام میں اپنے نوعیت کا پہلا خودکش حملہ آور امریکی شہری تھا۔ اخبار نے مختلف جہادی ویب پورٹلز کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ ابو ھریرة نامی امریکی شہری ادلب شہر پر خودکش حملہ کے لیے جانے والے تین ٹرکوں کے قافلے میں ایک شامل ایک ٹرک چلا رہا تھا جس میں 16 ٹن وزنی دھماکا خیز مواد موجود تھا۔

یاد رہے امریکی حکام ماضی قریب میں اس امر کی تصدیق کر چکے ہیں کہ 70 امریکی شہری شام میں جاری لڑائی میں شرکت کے لئے علاقے میں موجود ہیں۔