.

رامی الحمد للہ مخلوط فلسطینی حکومت کے سربراہ مقرر

وزیر خارجہ کے نام پر اختلاف،حکومت کا اعلان مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس عباس نے اپنی جماعت الفتح اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے اتفاق رائے سے سبکدوش وزیر اعظم رامی الحمد للہ کو با ظابطہ طور پر نئی قومی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے تاہم وزیر خارجہ کے نام پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مخلوط حکومت کا اعلان مٶخر کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کو بتایا کہ "مخلوط قومی حکومت کی تشکیل کا مرحلہ تقریبا مکمل ہو چکا ہے تاہم وزیرخارجہ کے نام پر حماس اور الفتح دونوں صدر محمود عباس سے اختلاف کررہی ہیں۔ صدر عباس نے عبوری وزارت خارجہ کا قلم دان ریاض المالکی کو دینے پر بضد ہیں جبکہ ان کی اپنی جماعت 'فتح' اور حماس اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ ریاض المالکی سنہ 2007ء سے فلسطینی حکومت کے وزیر خارجہ کے عہدے پر خدمات انجام دیتے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حماس نے وزارت خارجہ کے لیے اپنی جانب سے غزہ حکومت کے سابق نائب وزیر اعظم زیاد ابو عمرو کا نام پیش کیا ہے۔

فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ اگر دونوں جماعتیں ریاض المالکی کی جگہ کسی دوسرے امیدوار کو وزارت خارجہ کا قلم دان دلوانے کے لیے صدر عباس کو قائل کرنے میں کامیاب رہیں تو چند گھنٹوں میں قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حماس اور الفتح کے مابین طے پائے مفاہمتی فارمولے کے تحت کل جمعرات کو قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان ہو جانا چاہیے تھا۔

فلسطینی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر محمود عباس نے ایک مکتوب میں سبکدوش وزیر اعظم رامی الحمد للہ کو قومی عبوری حکومت کی تشکیل کی دعوت دی ہے۔ مکتوب میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کی انتظامیہ کو بھی اپنی حکومت کا حصہ بنائیں۔

ادھر فلسطینی اتھارٹی کے ایک دوسرے عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ کل جمعرات کو امریکا کی جانب سے نو منتخب عبوری وزیر اعظم رامی الحمدللہ کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے۔ یہ دعوت اس بات کا اعلان ہے کہ امریکا، فلسطین میں حماس کی شراکت سے وجود میں آنے والی قومی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے عبوری وزیر اعظم کو باضابطہ طور پر واشنگٹن آنے کی دعوت ملی ہے۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے اراکین سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کا دورہ کریں۔ واشنگٹن کی دعوت پر رامی الحمد للہ جون میں امریکا جائیں گے۔

یاد رہے کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں حماس اور فتح کے درمیان سنہ 2007ء میں بعض سیاسی معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے تھے جن کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے اشتراک سے قائم قومی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی میں حماس اور مقبوضہ غرب اردن کے علاقوں میں فتح نے الگ الگ حکومتیں قائم کرلی تھیں۔ گذشتہ 23 اپریل کو دونوں جماعتوں نے اختلافات بھلا کر مخلوط قومی حکومت کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔