.

قطر جاسوسی، گرفتار افراد پر تشدد کیا گیا: فلپائنی سفیر

قطری حکام زیر حراست افراد سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دیتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں فلپائن کے سفیر نے کہا ہے کہ '' جاسوسی کے الزام میں گرفتار فلپائنی شہریوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفیر نے اس امر کا اظہار '' العربیہ '' سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

تین فلپائنی شہریوں کو قطر کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے حوالے سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے ایک فلپائنی کو سزائے موت جبکہ دو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تینوں جاسوسوں کو یہ سزا ان کی گرفتاری کے ایک ہفتے بعد سنائی گئی ہے۔ سفیر نے '' العربیہ '' کو بتایا سب سے بڑے ملزم کو دیگر دس فلپائنیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں 2010 میں مارچ اور مئی کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔

سفیر کے مطابق ہماری پہلے سے کی گئی درخواستوں کے باوجود ملزمان تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔ اب تک صرف ایک مرتبہ نومبر 2010 میں ملاقات کا موقع دیا گیا ہے۔ ملاقات نہ کرانے کی وجہ قطری حکام یہ بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ چونکہ سلامتی سے متعلق ہے اس لیے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

فلپائنی سفیر کا کہنا تھا جن لوگوں کو جولائی 2010ء کو رہا کیا گیا تھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ کہ دوران حراست جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا تھا۔ یہ شکایت ماہ نومبر میں زیر حراست افراد نے بھی کی تھی۔

فلپائن کے سفیر نے بتایا تشدد کے یہ تمام الزامات قطری حکام کے سامنے بھی رکھے گئے تھے، ان حکام میں وزیر داخلہ، اٹارنی جنرل اور انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح ماتحت عدالت میں بھی یہ مسئلہ اٹھاِیا گیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس معاملے پذیرائی نہیں کی تھی۔

'' العربیہ'' کی جمعرات کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار فلپائنی مسیحی پادری ہیں۔