"مسلح شورش سیسی حکومت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے"

انصار بیت المقدس کی سیسی کے نام دھمکی آمیز ٹویٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری فوج کے سابق سربراہ اور نو منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کو اپنے دور حکومت میں عسکری تنظیموں کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں سرگرم انصار بیت المقدس نامی جہادی گروپ نے السیسی کو گذشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دھمکی دی ہے۔

صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی انصار بیت المقدس نے ٹویٹر پر جنرل سیسی کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام جاری کیا: "کیا عبدالفتاح السیسی اقتدار سنبھالنے تک زندہ رہے گا؟ اگر وہ زندہ بچ بھی گیا، تو کیا وہ مزید زندہ رہ پائے گا۔"

انصار بیت المقدس کی تاسیس سنہ 2011ء میں عرب بہاریہ کے آغاز کے موقع پر ہوئی۔ تنظیم القاعدہ کی حامی سمجھی جاتی ہے تاہم انتظامی طور پر اس کا القاعدہ سے کوئی لین دین نہیں۔

القاعدہ سے متاثر اس مسلح گروہ نے اسلام پسند مصری صدر محمد مرسی کی گذشتہ برس جولائی میں معزولی کے بعد سے اب تک مصری سیکیورٹی فورسز پر کئی حملے کئے ہیں۔

انصار بیت المقدس نے مصری سیکیورٹی فورسز پر کئے جانیوالے کچھ ہائی پروفائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں گذشتہ برس ستمبر میں وزیر داخلہ پر کیا جانے والا ناکام قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے۔

مصر میں بڑھتی ہوئی مسلح شورش اکیلا مسئلہ نہیں جسے سیسی حکومت کو نپٹنا ہو گا، اس کے علاوہ مصر کو درپیش توانائی اور معاشی بحران بھی صدر سیسی کے لیے بڑے چیلنج کا درجہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں