.

سعودی آئمہ حضرات دوسروں کو اپنا نائب مقرر نہیں کر سکتے

وزارت مذہبی امور نے پابندی عاید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت مذہبی امور نے آئمہ کرام پر پابندی عاید کر دی ہے کہ وہ کسی کو اپنا نائب بنا کر نمازوں کی امامت کے لیے نہ بھیجیں۔ وزارت کے مطابق امام حضرات کی جانب سے دوسروں کو اپنا نائب بنا کر بھیجنے کے معمول سے کافی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امام حضرات کا اپنا نائب بنانا ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ خصوصا جب ایک امام کو دوسرے ضروری امور بھی نمٹانا ہوں تو اس کی افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ امامت کیلیے آگے کیا تھا۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے امام حضرات جس ذمہ داری کا عوضانہ لیتے ہیں اس کی انجام دہی انہیں خود ہی کرنی چاہیے۔

علی الشہری نے کہا نائب بنانا اسلام میں ممنوع نہیں ہے۔ بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ امام کے لیے نماز کی امامت کرانا ممکن نہیں ہوتا، تاہم انہوں نے کہا امام حضرات کو صرف ایسے افراد کو نمائند ہ مقرر کرنا چاہیے جو قرآن جانتے ہوں اور اس کی تلاوت کر سکتے ہوں۔
عبدالعزیز المحمدی اس حوالے سے یقین رکھتے ہیں کہ امام جس پر امامت کی ذمہ داری ہو اسے ہی امامت کرانی چاہیے۔ الایہ کہ ایسا کرنا ممکن نہ رہے۔ انہوں نے کہا ''بعض امام حضرات اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی جگہ دوسروں کو نائب مقرر کرتے ہیں، لیکن انہیں معمولی معاوضہ ادا کرتے ہیں۔''

ایک امام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ''امام بھی دوسرے لوگوں کی طرح کے انسان ہوتے ہیں، ان کے خاندان کے بھی مسائل ہوتے ہیں، اسی طرح امام حضرات کی بڑی تعداد دوسری ملازمتیں بھی اختیار کر لیتی ہے کہ ان کی آمدنی بہت کم ہوتی ہے۔''

واضح رہے خطبہ جمعہ دینے والے امام حضرات کو اپنی ذمہ داریاں دوسروں کو منتقل کرنے سے وزات مذہبی امور نے روک دیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ اگر کبھی مجبوری ہو تو اپنی جگہ مسجد کے موذن کو مقرر کریں کسی اور کو نہیں۔