.

فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی پر دوبارہ رائے شماری کا عندیہ

"رشوت اسکینڈل کے بعد قطر کی میزبانی متنازعہ ہو چکی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2022ء کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی خلیجی ریاست قطر کو دینے کے لیے بعض ارکان کی جانب سے رشوت وصولی کے الزامات کے بعد عالمی فٹبال فیڈریشن"فیفا" نے میزبان ملک کے انتخاب کے لیے دوبارہ رائے شماری کا عندیہ دیا ہے۔

فیفا کے ڈپٹی چیئرمین جیم بوئیس کا کہنا ہے کہ میزبان ملک کے انتخاب کے لیے دوبارہ ووٹنگ کرانے میں کوئی امر مانع نہیں اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" نے دعویٰ کیا تھا کہ سن دو ہزار بائیس کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے کے لیے فیڈریشن کے بعض ارکان نے تین ملین آسٹریلوی پاؤنڈ رشوت وصول کی تھی۔ اس ضمن میں فیڈریشن کے اعلیٰ تفتیشی افسر مائیکل گارسیا نے مبینہ کرپشن اور رشوت خوری کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فیفا کے ڈپٹی چیئرمین نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اگر میزبان ملک کے دوبارہ انتخاب کے لیے رائے شماری کی جاتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر مائیکل گارسیا نے ثابت کر دیا کہ فیفا ورلڈ کپ کے میزبان کے انتخاب میں فراڈ کیا گیا ہے تو اس معاملے سے نہایت سنجیدگی سے نمٹا جائے گا۔

جیم بوئیس کا کہنا تھا کہ ہم سب مائیکل گارسیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہیں فیفاء کے تمام عہدیداروں سمیت دنیا بھر میں کسی بھی شخص سے ملاقات اور اسے پوچھ گچھ کی مکمل اجازت ہو گی۔ ہم بھی ان الزامات کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ حقائق سب کے سامنے لائے جا سکیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق سنہ2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے انتخاب میں ایشن فٹ بال لیگ کے سابق سربراہ اور فیفا کے عہدیدار محمد بن ھمام مرکزی ملزم بتائے جاتے ہیں، جنہوں نے لاکھوں ڈالر وصول کرکے فٹ بال کپ کی میزبانی قطر کو دلوائی تھی۔