.

محمد مرسی اور قطر کے درمیان خُفیہ معاہدے کا انکشاف

"معزول صدر، مصر کی ہر چیز دوحہ کو بیچنے پر تیار تھے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک مقدمے کی سماعت میں کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی اور قطر کے درمیان ایک خفیہ ڈیل کے تحت مصر میں ترقیاتی کاموں کے لیے ٹھیکے دوحہ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس امر کا انکشاف حسنی مبارک، ان کے بیٹوں جمال، علاء اور سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران کیا گیا. اس مقدمے کو اپنی اہمیت کے اعتبار سے مصری میڈیا میں "کیس آف دی سینچری" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.

اہم وسائل کے بارے میں مرسی اور قطر کی مجوزہ بندر بانٹ کا پردہ محمکہ دفاع کے عہدیدار میجر جنرل حسن عبدالرحمان نے مقدمے کی سماعت کے دوران کیا۔ حسن عبدالرحمان مصر کے اسٹیٹ سیکیورٹی ادارے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف جاری 'کیس آف دی سینچری' کے دوران اخوان المسلمون کے سابق صدر محمد مرسی اور قطر کےدرمیان ہونے والے ایک اہم معاہدے کا بھی انکشاف کیا۔

میجر جنرل حسن عبدالرحمان نے بتایا کہ اخوان المسلمون نے صدر محمد مرسی کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ وزیر اعظم کو اس بات کا پابند بنائیں کی اہم ترین وزارتوں پر صرف اخوان کے نوجوان ارکان کا تقرر عمل میں لائیں اور اخوان کی حمایت کرنے والے 4000 نوجوانوں مختلف شعبوں میں سنہ 2013ء سے پہلے پہلے ملازمتیں دلوائیں تاکہ ریاستی اداروں پر اخوان کی گرفت مضبوط بنائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر محمد مرسی اور قطر کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت سابق صدر نے مصر کی ہر قابل فروخت چیز دوحہ کو دینے کی حامی بھر لی تھی۔ اسی معاہدے کے تحت 30 جنوری 2013ء کو صدر کی جانب سے وزیر اعظم ھشام قندیل کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ملک کے تمام صنعتی پروجیکٹ قطر کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ سابق وزیر اعظم ھشام قندیل بھی صدر محمد مرسی کے ساتھ تھے اور انہوں نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے قطر کے دروازے کھول دیے تھے۔

میجر جنرل حسن عبدالرحمان نے بتایا کہ سابق صدر محمد مرسی 4772 فلسطینی اسیران کے اہل خانہ کو فی خاندان 5000 ڈالر دینا چاہتے تھے جو کہ مجموعی رقم 22 ملین 04 لاکھ 45 ہزار سے زیادہ تھی۔ حالانکہ صدر کو بتایا گیا تھا کہ مصر کے قومی خزانے میں وسائل کی پہلے ہی قلت ہے اور وہ فلسطینیوں کے لیے اس بھاری گرانٹ کی ادائیگی کیونکر ممکن بنائی جا سکتی ہے۔