.

الجزیرہ کی مصر میں صدارتی انتخابات کی غیر پیشہ ورانہ کوریج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک میڈیا واچ ڈاگ نے گذشتہ ہفتے منعقدہ صدارتی انتخابات کی کوریج کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الجزیرہ سے وابستہ چینل مباشر مصر نے ان صدارتی انتخابات کی سب سے کم تر پیشہ ورانہ انداز میں کوریج کی ہے۔

مصر کی مآت فاؤنڈیشن برائے امن ،ترقی اور انسانی حقوق نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے بارہ ٹی وی چینلوں کی کوریج کا جائزہ لیا ہے۔ان میں الجزیرہ کے مباشر مصر کی کوریج حیران کن طور پر پیشہ ورانہ ،سیاسی اور اخلاقی معیار سے ہٹی ہوئی اور کم تر درجے کی تھی۔

اس فاؤنڈیشن نے 24 مئی سے 29 مئی تک ٹی وی چینلوں کی کوریج کا جائزہ لیا ہے۔الجزیرہ کے مباشر مصر نے اس سروے میں مجموعی طور پر نو نمبر حاصل کیے ہیں۔اس درجہ بندی میں اطلاعات کی درستی ،اینکروں اور رپورٹروں کی جانب سے پولنگ اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کو رپورٹ کرتے وقت استعمال کی جانے والی زبان ،چینل کی پیشہ واریت کی سطح اور پروگراموں کی غیر جانبداری اور شفافیت جیسے پہلوؤں کو ملحوظ رکھا گیا تھا۔

فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ایمن عاقل نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے نمائندوں نے ان بارہ چینلوں کی نشریات کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الجزیرہ مصر میں انتقال اقتدار کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسی سے اس کی معروضیت متاثر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ الجزیرہ گذشتہ سال جولائی میں جو کچھ ہوا،اس کو ایک فوجی بغاوت قرار دیتا رہا ہے،اسی سبب اس کی معروضیت کی صلاحیت جاتی رہی ہے۔وہ عبدالفتاح السیسی کو ایک کریمنل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ان کے مدمقابل حمدین صباحی پر ایک ڈھونگ صدارتی انتخاب میں مدد دینے کا الزام عاید کیا۔اس کے علاوہ چینل نے اپنی نشریات میں نامناسب زبان استعمال کی۔

مسٹر عاقل کا کہنا تھا کہ الجزیرہ پر مصر میں کام کرنے پر پابندی کی وجہ سے بھی وہ صدارتی انتخابات کی شفاف انداز میں کوریج کرنے میں ناکام رہا ہے۔جب الجزیرہ سے اس موضوع پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو اس نے کوئی ردعمل ظاہر کرنے یا بیان جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں مصر کی ایک عدالت نے الجزیرہ کے مباشر مصر کو بند کرنے کا حکم دیا تھا اور اس پر جھوٹی اور غلط معلومات پھیلانے کا الزام عاید کیا تھا تاکہ ملک میں کشیدگی اور افراتفری کو ہوا دی جاسکے۔

فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق العربیہ نیوز چینل کے سسٹر چینل الحدث کے پروگرام ''الحدث المصری'' (مصری منظر) اور یحدث فی مصر (مصر میں واقعات) کو صدارتی انتخابات کی کوریج کے حوالے سے سب سے زیادہ پیشہ ور پروگراموں میں شمار کیا گیا ہے۔مآت فاؤنڈیشن نے انتخابی عمل کی میڈیا کوریج سے متعلق کل چار رپورٹس جاری کی ہیں۔ان میں العربیہ الحدث کے پروگراموں کی تعریف کی گئی ہے۔