.

نشانچی خواتین کی شامی فوج میں کنٹریکٹ پر بھرتی

"خواتین، مردوں کی نسبت زیادہ بہادری سے لڑتی ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شام میں فوج کے زیر انتظام باضابطہ اور رضاکارانہ طور پر پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والی نشانچی اور ماہر گوریلا خواتین اہلکاروں اور ری پبلیکن گارڈز کے درمیان بیس سال کا معاہدہ طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت نشانہ باز خواتین کو شامی حکومت کے مخالفین کو چُن چُن کر قتل کرنے کے لیے ٹاسک سونپے جاتے ہیں۔

روسی ٹی وی کے نامہ نگار نے حال ہی میں شامی فوج کی زینب نامی ایک ماہر نشانہ باز کا انٹرویو کیا۔ ری پبلیکن گارڈز کے زیر انتظام فرسٹ سارجنٹ کے عہدے پر فائز زینب نے بتایا کہ مجھے "دہشت گردوں" کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بلند جگہ سے نشانہ بنانے کا ٹاسک سونپا گیا۔ میں نے دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ویران مکان کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور ایک دن میں کئی کئی شکار کیے۔

فرسٹ سارجنٹ زینب نے بتایا کہ اسے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا ہدف ڈیانا نامی ایک سینیئر عہدیدار نے دیا تھا۔ مجھے ہدایت کی گئی تھی کہ میں ہر متحرک چیز کو نشانہ بناؤں۔ میں ایسا ہی کرتی ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں زینب کا کہنا تھا کہ میرے اہل خانہ کو میری اس "جاب" پر نہ صرف کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس پر فخر کرتے ہیں، تاہم یہ فطری بات ہے کہ وہ میرے پُر خطر کام کے حوالے سے تشویش بھی محسوس کرتے ہوں گے"۔

رپورٹ میں خواتین نشانچیوں کے گروپ کے مرد سربراہ علی نے کہا کہ جنگ میں خواتین کی خدمات مردوں کی نسبت زیادہ تسلی بخش ہیں۔ محاذ جنگ میں جس صبر اور استقامت سے خواتین خدمات انجام دیتی ہیں مردوں میں وہ جذبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی کارروائیوں کے نتائج بھی حیران کن ہوتے ہیں۔ اس پر ہمیں فخر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جب سے صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت شروع ہوئی ہے، بڑی تعداد میں نشانچی خواتین نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات فوج کو فراہم کرنا شروع کیں۔ ان رضاکار خواتین کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اولغا نامی ایک نشانہ باز سے جب پوچھا گیا کہ آپ کس حد تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ وہ دن میں بعض اوقات تین تین بار نشانہ بناتے ہوئے کئی شکار کر لیتی ہیں۔ اولغا نے ایک مکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "وہ دیکھیے سامنے دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔ وہاں پر جیسے پردہ حرکت کرے گا میری بندوق سے گولی نکل جائے گی"۔