.

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال جاری

41 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث متعدد قیدی بیمار اور لاغر ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیلوں میں انتظامی حراست میں رکھے گئے 120 فلسطینیی قیدیوں نے اپنی نظر بندی کے خلاف اکتالیس روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل طاقت کے ذریعے قیدیوں کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے سخت ترین قوانین کا سہارا لینے کی کوشش میں ہے مگر اسرائیلیوں کو ابھی تک پرعزم فلسطینی اسیران کے مقابلے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قومی حکومت میں نو منتخب وزیر برائے امور اسیران شوقی العیسہ بھوک ہڑتالی اسیران کے حوالے سے سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ بھوکے پیاسے فلسطینی قیدیوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ قیدیوں کی بھوک ہڑتال اور ان کے مطالبات فلسطین کے تمام ادارے اور سفارت خانے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کوشاں تاکہ قیدیوں کے جائز مطالبات منوانے کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالا جا سکے۔

یہاں یہ امربھی واضح رہے کہ فلسطینی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" اور الفتح کے درمیان وزارت اسیران پر بھی تنازع ہو چکا ہے۔ قومی حکومت کی تشکیل سے قبل صدر محمود عباس نے تجویز دی تھی کہ وزارت اسیران کو ختم کر کے اسے تنظیم آزادی فلسطین کے زیر انتظام الگ سے شعبہ میں تبدیل کردیا جائے تاہم حماس نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی اور معاملہ قومی حکومت کے التواء تک جا پہنچا۔ آخر کارصدر عباس کو اپنی تجویز واپس لینا پڑی تھی۔

ادھراسرائیلی حکومت نے جیلوں میں متعین ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے بھوک ہڑتالی اسیران کو خوراک فراہم کریں تاہم ڈاکٹروں نے حکومتی حکم نامہ مسترد کر دیا ہے۔

فلسطینی وزات اسیران کے سیکرٹری زیاد ابو عین نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بہ زور طاقت قیدیوں کو خوراک کھلانے کی صہیونی پالیسی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ایسے 'قصابوں' کی تلاش ہے جو نیتن یاھو کے حکم پر عمل کرتے ہوئے قیدیوں کے منہ میں طاقت کے ذریعے خوراک ٹھونس سکیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی الزام کے 200 فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کو کئی سال انتظامی قید میں بیت چکے ہیں۔ صہیونی عدالتیں ہر چھ ماہ یا کچھ عرصہ بعد ان اسیران کی مدت حراست میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کر دیتی ہیں۔ ان قیدیوں کے خلاف کوئی الزام ہے اور نہ ہی ان پرکوئی مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی حراست کو غیر قانونی قرار دے کررہائی کے لیے صبرآزما بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

دوسری جانب فلسطین کے مختلف شہروں میں بھوک ہڑتالی اسیران کے ساتھ یکجہتی کے لیے آئے روز مظاہرے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینی بھی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔ صہیونی فوج اور پولیس طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کو منتشر کرنے کی ظالمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔