.

مصر: خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف نیا قانون جاری

تحفظ خواتین کیلیے سرگرم تنظیم کی رکن کا اظہار عدم اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سبکدوش ہونے والے عبوری صدر عدلی منصور نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی سزا پانچ سال تک کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ حکم پہلے سے موجود قوانین کو تبدیل کرکے جاری کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے والا قانون مبہم اور ناکافی سمجھا جاتا تھا۔ نئے قانون میں کسی خاتون کو ہراساں کرنے کی تعریف ایک ایسے اقدام کے طور پر کی گئی ہے کہ جس کا مقصد جنسی ضرورت پوری کرنا ہو۔

عبوری صدر کے ترجمان بداوی کے مطابق کوئی ایسا اشارہ، لفظ، یا علامتی اظہار کرنے کا مطلب کم از کم چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ تین ہزار سے پانچ ہزار مصر پاونڈ جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

نئے قانون کے مطابق ہراساں کرنے والے کو مقدمہ کا ہر دو صورتوں میں سامنا ہو گا خواہ یہ جرم لوگوں کے سامنے کیا ہو یا نجی ماحول میں کیا ہو۔ نیز جرم کو دہرانے کی صورت میں سزا دو گنا ہو جائے گی۔

صدارتی ترجمان کے مطابق اگر ملزم نے طاقت کا استعمال کیا ہوگا تو سزا مزید سخت کر دی جائے گی۔ سزا اعلیٰ عہدیدار اور مسلح ملزم کے بھی زیادہ سخت ہو گی۔

مصر کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مصر میں خواتین کی بڑی تعداد کو کسی نہ کسی صورت میں ہراساں ہونا پڑتا ہے۔ عرب دنیا کے اس زیادہ آبادی والی قوم میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

پچھلے مارچ میں ملک کی اعلی ترین یونیورسٹی میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تو قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر شور ہوا۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف گروپ کی رکن جنت عبدالامین نے نئے ترمیم شدہ قانون کو بھی مبہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اب بھی سزا کم رکھی گئی ہے۔

جنت عبدالامین نے کہا اگر موقع کا گواہ نہ ہو تو پولیس ایسے مقدمے کے اندراج میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے اجتماعی زیادتی کے معاملے کو نظر انداز کرنے پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے۔