.

اقوام متحدہ ایلچی : فلسطینی قومی حکومت کے لیے حمایت

اسرائیل اور مصر سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی رابرٹ سیری نے فلسطین کی قومی حکومت کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل اور مصر سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر رابرٹ سیری نے اتوار کو غزہ کا دورہ کیا ہے اور وہاں فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت میں شامل چار وزراء سے ملاقات کی ہے۔وہ اسرائیل کی مخالفت کے باوجود صہیونی فوج کے محاصرے کا شکار علاقے میں پہنچے تھے۔

وہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح ،اسلامی جماعت حماس اور دوسری جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے بعد غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے بین الاقوامی عہدے دار ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے مزید امداد کا بھی وعدہ کیا ہے۔

آسٹریلیا سے احتجاج

ادھر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی وزارت خارجہ نے آسٹریلیا کے سفارتی نمائندے کو طلب کیا ہے اور ان سے آسٹریلوی اٹارنی جنرل کے اس بیان کی احتجاج کیا ہے اور اس کی وضاحت کرنے کے لیے کہا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کینبرا مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے ساتھ اب لفظ ''مقبوضہ '' نہیں لکھے گا۔

گذشتہ ہفتے آسٹریلوی اٹارنی جنرل جارج برانڈیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ''آسٹریلیا ایک ایسے علاقے کو بیان کرنے کے لیے اس طرح کی فیصلہ کن زبان استعمال نہیں کرے گا جس پر بات چیت ہورہی ہے''۔

اسرائیل نے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا لیکن فلسطینیوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اس پر کڑی تنقید کی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے اتوار کو آسٹریلوی نمائندے تھامس ولسن کو طلب کر کے باضابطہ طور پر اٹارنی جنرل کے بیان پر آسٹریلیا سے احتجاج کیا ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بیان پر تشویش ہے اور یہ مشرقی بیت المقدس کے بارے میں عالمی برادری کے موقف کے یکسر منافی ہے۔انھوں نے آسٹریلیا سے آیندہ چند روز میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے بارے میں اپنے موقف کی سرکاری طور پر وضاحت کرنے کے لیے کہا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے صہیونی ریاست کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ اس کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی خیال کرتی ہے جبکہ فلسطینی اس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔