.

عراق: جامعہ الانبار پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک

بغداد ۔ فلوجہ رابطہ پل دھماکے سے تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سیکیورٹی حکام نے جامعہ الانبار پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ابو عطاء الحلبی نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے عراقی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ الحلبی کو الرمادی کے مغرب میں انسداد دہشت گردی فورس کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الحلبی ایک ویران مکان میں چُھپا ہوا تھا۔ اس نے خود کو دھماکے سے اڑانے کے لیے بارود سے بھری خود کش جیکٹ بھی پہن رکھی تھی تاہم اسے دھماکہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ پہلے ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ چند روز پیشتر عراق میں سرگرم عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے جنگجوؤں نے الانبار یونیورسٹی میں سیکڑوں طلباء وطالبات کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بیشتر یرغمالی بازیاب کرا لیے گئے ہیں، تاہم اب بھی کچھ لوگوں کے عسکریت پسندوں کے چنگل میں پھنسے ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ گذشتہ روز یہ خبر آئی تھی کہ داعش کےہاتھوں یرغمال بنائے گئے پندرہ عراقی جامعہ الانبار میں بند ہیں۔

سیکیورٹی فورسز انہیں چھڑانے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاہم دہشت گردوں کی جوابی کارروائی میں تین سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

رابطہ پل کی تباہی

درایں اثناء عراقی دارالحکومت بغداد فلوجہ شہر کے درمیان رابطہ پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے بعد دونوں شہروں میں زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

عراقی سیکیورٹی ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ نامعلوم عسکریت پسندوں نے رابطہ پُل کے نیچے دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا تھا جو اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ پڑا، جس کے نتیجے میں پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

یہ پل فلوجہ کے عامریہ کے علاقے میں "بزیبز" کے مقام پر واقع ہے۔ پل کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑایا گیا۔

خیال رہے کہ الانبار یونیورسٹی میں یرغمال بنائے گئے تیرہ سو طلباء وطالبات کو پولیس نے اتوار کے روز ایک بڑے آپریشن میں بازیاب کرا لیا تھا تاہم موصل شہر میں باغیوں کا شہر کی پانچ اہم کالونیوں پر قبضہ برقرار ہے۔