.

"جنگی جرائم کی فہرست میں بشار الاسد کا پہلا نمبر"

11,000 ہزار قیدی تشدد سے ہلاک کیے، مقتولین کی آنکھیں نکال دیں: ڈیوڈ کرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگی جرائم کے ارتکاب سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت [آئی سی سی] کی مرتب کردہ فہرست میں بشار الاسد سر فہرست قرار پا گئے ہیں۔ یہ بات آئی سی سی کے سابق پراسیکیوٹر ڈیوڈ کرین نے بتائی ہے۔

سابق پراسیکیوٹر کے مطابق ہمارے پاس ایسے 20 استغاثے جمع ہوئے تھے جن میں جنگی جرائم کی ذمہ داری عاید کی گئی تھی، یہ ایک غیر جانبدارانہ کوشش تھی، جس میں بشار الاسد یا اس کے ساتھیوں کا بطور خاص پیچھا کرنے کی بات نہ تھی۔ ''

سابق چیف پراسیکیوٹر آجکل شامی احتسابی منصوبے کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق اس فہرست میں دیے گئے جرائم کے تحت مبینہ ذمہ داروں پر مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔

فہرست میں داعش، النصرہ فرنٹ، شامی باغی گروپس اور بشار رجیم سمیت سبھی کو شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ڈیوڈ کرین نے صرف بشار کا نام لیا ہے۔

رپورٹ میں دی گئی تصاویر اور دیگر شواہد سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت تشدد سے تقریبا 11000 قیدیوں کی قتل و غارت گری نے نازیوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔

مسٹر کرین نے کہا ''ہمیں اس طرح کی شہادتیں کم ہی ملتی ہیں۔ ان میں 55000 ہلاک شدگان کی ایسی تصاویر ہیں جن میں سے بہت سوں کی آنکھیں نکال دی گئی ہیں اور یہ لوگ بھوک کے مارے ہوئے لگ رہے تھے۔

سابق چیف پراسیکیوٹر نے کہا انہیں اس بارے میں ذرا بھر شبہ نہیں ہے کہ یہ سب شواہد سچے اور درست ہیں۔

واضح رہے چوتھے سال میں داخل ہو جانے والی شامی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد شہری لقمہ اجل بنا دیے گئے ہیں۔