.

داعش کا صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر قبضہ

جہادیوں نے تکریت جیل پر قبضے کے بعد سیکڑوں قیدیوں کو رہا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے متاثر جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے عراق کے شمالی علاقوں میں سرکاری فوج کے خلاف پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے بدھ کو سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔داعش نے گذشتہ روز ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

داعش کے جنگجوؤں نے تکریت میں سرکاری عمارتوں ، مالیاتی اداروں اوراسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا ہے۔اب وہ اس اسلحے کو وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف اپنی جنگ میں بروئے لاسکتے ہیں۔ داعش کے مقابلے میں عراقی فوج کی پسپائی پر پورے خطے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تکریت صوبہ صلاح الدین کا دارالحکومت ہے اور داعش کے جنگجوؤں نے وہاں ایک مقامی جیل پر قبضہ کرنے کے بعد سیکڑوں قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔یہ شہر موصل اور دارالحکومت بغداد کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔

عراقی پولیس کے ایک کرنل نے تکریت پر طاقتور اسلامی جہادی گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے قبضے کی تصدیق کی ہے اور پولیس کے ایک بریگیڈیئر جنرل کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کے شمال ،مغرب اور جنوب کی سمت سے حملہ کیا تھا۔

امریکا نے عراق میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے کہا ہے کہ داعش نہ صرف عراق کے استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ تنظیم پورے خطے کے لیے بھی ایک خطرہ بن چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے موصل پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے عراق کے سیاسی لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ خطرے کے مقابلے میں متحدہ ہوجائیں۔

عراقی کردستان کے شہر اربیل کے گورنر نوزاد ہادی نے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت پر صوبہ نینویٰ اور اس کے دارالحکومت موصل کے سقوط کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے العربیہ کے الحدث ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فورسز امریکا کے مہیا کردہ جدید ہتھیاروں سے مسلح ہیں لیکن نوری المالکی کی سکیورٹی پالیسی کی وجہ سے انھیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ ایک حقیقی المیہ ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ ایک عشرے کے دوران نئی عراقی فوج کی تشکیل ،اس کی تربیت اور اس کو اسلحہ مہیا کرنے پر سولہ ارب ڈالرز صرف کیے تھے۔