.

موصل میں داعش کا ترک قونصل خانے پر کنٹرول

قونصل جنرل اور خصوصی فورسز کے دستوں سمیت 76 ترکوں کو یرغمال بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی شہر موصل پر کنٹرول کے ایک روز بعد ترکی کے قونصل خانے پر قبضہ کر لیا ہے اور قونصل جنرل سمیت سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا ہے۔

انقرہ میں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر نے موصل میں قونصل جنرل ،تین بچوں اور خصوصی فورسز کے متعدد ارکان سمیت چھہتر ترکوں کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔گذشتہ روز داعش کے جنگجوؤں نے اٹھائیس تُرک ٹرک ڈرائیوروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔وہ اس وقت موصل کے پاور پلانٹ کے لیے ڈیزل لے کر جارہے تھے۔

ترک حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ موصل میں ترک سفارتی عملے کے تحفظ کے لیے متعدد جنگجو گروپوں سے براہ راست رابطہ کیا گیا ہے۔

دریں اثناء سنی مزاحمت کاروں نے شمالی شہر بیجی کی جانب پیش قدمی کی ہے۔اس شہر میں عراق کا تیل صاف کرنے کا ایک بڑا کارخانہ واقع ہے۔ذرائع کے مطابق جنگجوؤں نے شہر میں ایک عدالت اور ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کردیا ہے۔

قریباً ڈھائی سو محافظ بیجی میں آئیل ریفائنری کے تحفظ پر مامور ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے مقامی قبائلی شیوخ پر مشتمل ایک وفد ان کے پاس بھیجا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ ریفائنری کو خالی کردیں۔ محافظوں نے اس شرط پر ریفائنری کو خالی کرنے سے اتفاق کیا ہے کہ انھیں بحفاظت کسی اور شہر میں منتقل کردیا جائے۔

عراق سے العربیہ کے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق شمالی شہر کرکوک کے مغرب میں واقع ایک بڑے حصے پر بھی داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ روز قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے عراقی فوج پسپا ہوگئی تھی۔ایک فوجی ذریعے نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ کرد فورسز نے بدھ کو کرکوک کے آس پاس علاقوں کا محاصرہ کر لیا ہے تاکہ داعش کے جنگجوؤں کی کرد علاقوں کی جانب پیش قدمی کو روکا جاسکے۔

عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے صوبہ نینویٰ کے بڑے حصے پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے اور سکیورٹی فورسز کی ناکامی کو ایک سازش کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جو اہلکار جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کے بجائے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے،ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تاہم عراقی وزیراعظم نے براہ راست کسی فوجی عہدے دار پر الزام عاید کرنے کے بجائے کہا ہے کہ ''ہم صورت حال سے نمٹنے کے لیے کام کررہے ہیں اور سکیورٹی فورسز کو دوبارہ مجتمع کررہے ہیں تاکہ نینویٰ کو دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے''۔انھوں نے بتایا کہ کابینہ نے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے والے جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے ایک کرائسس سیل کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔