.

نورالمالکی داعش سے لڑنے کیلیے شہریوں کو اسلحہ دیں گے

فوج کی تنظیم نو کی جائے گی، نورالمالکی ناکام ہو گئے: گورنر نینوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم نورالمالکی نے موصل میں اسلامی عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد شہریوں کو اسلحہ دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ عسکریت پسندوں کے مقابل کھڑے ہو سکیں۔

وزیر اعظم نے یہ اپیل سرکاری افواج کے شہر کے شمالی حصے سے کنٹرول کے مکمل طور پر ختم ہو جانے اور علاقہ چھوڑ دینے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کی ہے۔

نورالمالکی نے سرکاری ٹی وی پر بتایا ہے کہ کابینہ نے بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا ہے جو شہریوں کو بطور رضاکار منظم کرنے کے علاوہ اسلحہ سے لیس کرے گا۔

اس سے پہلے عراقی کابینہ نے شہریوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی طرف سے رضاکاروں کے طور پر سامنے آنے کے فیصلے کی تحسین کی ہے۔ تاکہ وہ اپنے وطن کے حفاظت کر سکیں۔

وزیر اعظم نورالمالکی نے کابینہ سے مسلح افواج کی تنظیم نو کرنے کیلیے بھی کہا۔ نیز پارلیمنٹ کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے وزیر اعظم نورالمالکی کے اس اعلان کے تھوڑی دیر بعد داعش کے عسکریت پسندوں نے صوبہ کرکوک کے مختلف علاقوں کو قابو کرنے کی کوشش شروع کر دی، اس امر کی مقامی پولیس ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔

دریں اثناء گورنر نوزاد ہادی نے الزام لگایا ہے کہ نورالمالکی کی حکومت صوبہ نینوا میں اس کے دارالحکومت موصل سمیت بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

گورنر نے کہا ''عراقی فورسز جدید ترین امریکی اسلحے سے لیس ہیں لیکن نورالمالکی کی پالیسیوں کی وجہ سے ناکام ہو رہی ہیں۔ گورنر ہادی کے بقول یہ ایک حقیقی سانحہ ہے۔

دوسری جانب عراقی حکام نے موصل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ جبکہ داعش کی پیش رفت جاری ہے۔ اس سے عراق میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔