.

''اسلامی قوانین پر حملہ سعودی اقتدار اعلی پر حملہ ہو گا''

اسلامی قوانین کے باعث سعودی جرائم کی سطح کم ہے: وزیر انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر انصاف محمد العیسی نے انسانی حقوق کے نام پر متحرک بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے سعودی مملکت پر حملہ آور ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکتی قوانین قرآن مجید اخذ کیے گئے ہیں اس لیے ان قوانین پر حملہ سعودی اقتدار اعلی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی وزیر انصاف نے ان خیالات کا اظہار امریکی قانون دانوں اور قانونی مشیران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

وزیر انصاف نے کہا بہت سارے لوگوں کا سعودی قوانین کے بارے میں تصور غلط فہمی پر مبنی ہے، اس مغالطے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تعصب پر مبنی اطلاعات پر انحصار کرتے ہیں اور ثقافتی فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے ہیں۔

محمد العیسی نے کہا ''اسی وجہ سے انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں اپنی مرتب کردہ رپورٹس میں غلطی کی مرتکب ہوتی ہیں۔''

انہوں نے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مزید کہا ''سر کاٹنے اور ہاتھ کاٹنے کی سزائیں قرآن کی طے کردہ ہیں انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے، نیز یہ سزائیں صرف سنگین جرائم میں ملوث افراد کو دی جاتی ہیں۔''

العیسی نے سعودی عرب میں فوجداری قوانین میں پیش رفت کا ذکر بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا ''اسلامی قوانین کے نفاذ سے سعودی عرب میں جرائم کی سطح کم ہے۔'' انہوں نے کہا ''اسلام دانش اور بصیرت پر مبنی دین ہے جو دیگر مذاہب کے ساتھ مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے، 1400 سال سے اس کی دائمی دانش پر مبنی دعوت کی وجہ سے اس کے پیروکار پوری دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔''