.

مصر : جمہوریت نواز معروف کارکن کو 15 سال جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں پیش پیش جمہوریت نواز معروف کارکن علاء عبدالفتاح کو پندرہ سال جیل کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے بدھ کو ان کے خلاف یہ حکم مصر کے جلسے جلوس پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی اور ایک پولیس افسر پر حملے کے جرم میں سنایا ہے۔

علاء عبدالفتاح کو گذشتہ سال نومبر میں مصر کے نئے آئین میں شہریوں کے فوجی ٹرائل سے متعلق دفعہ کے خلاف احتجاج کی پاداش میں گرفتار میں کیا گیا تھا۔قاہرہ کی عدالت نے انھیں اور اس مقدمے میں ماخوذ چوبیس اور مدعاعلیہان کو ان کی عدم موجودگی میں پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ان مدعاعلیہان پر جلسے جلوس پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی ،غیر قانونی اجتماع ،احتجاج کے دوران ہتھیار اٹھانے ،سڑکیں بند کرنے اور پولیس افسر پر حملے سمیت مختلف الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی علمبردار اور علاء عبدالفتاح کی ہمشیرہ مونا سیف نے بتایا ہے کہ عدالت کے حکم کے فوری بعد ان کے بھائی کو دو اور مدعاعلیہان سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس وقت وہ عدالت میں داخلے کی اجازت کے منتظر تھے۔مونا سیف کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا ہے اور وکلائے صفائی بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔اس لیے مصری قانون کے تحت ان کا دوبارہ ٹرائل ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ مصر کے مختلف گروپوں اور حسنی مبارک مخالف عوامی احتجاجی تحریک میں پیش پیش 6 اپریل تحریک سے وابستہ کارکنان نے 24 نومبر 2013ء کو قاہرہ میں شوریٰ کونسل کے سامنے شہریوں کے فوجی ٹرائل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔علاء عبدالفتاح کو اس مظاہرے کو منظم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور انھیں مارچ 2014ء میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

6 اپریل تحریک کے ترجمان شریف الروبی نے عدالتی فیصلے پر تنقید کی ہے اور عدالتی نظام پر سیاسی ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب رجحان رکھتا ہے۔یہ فیصلہ بھی جنوری 2011ء میں انقلاب میں حصہ لینے والے کارکنان سمیت حزب اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

دریں اثناء ایک سیاسی تجزیہ عمار علی حسن نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگرچہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے مگر اس کے باوجود سیاسی اور سماجی سطح پر اس کے خلاف منفی ردعمل ہوگا اور سیاست دان ،سیاسی کارکنان اور دانشور اس کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کریں گے جبکہ برطرف صدر محمد مرسی کے حامی اس کو اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں''۔