.

موصل پر داعش کا قبضہ، پانچ لاکھ افراد کی ہجرت

زیر قبضہ علاقوں میں اہم عمارات پر مسلح افراد تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہجرت سے متعلق جنیوا میں قائم بین الاقوامی انجمن کا کہنا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد پانچ لاکھ افراد شہر چھوڑ چکے ہیں۔

تنظیم نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کی جانب سے موصل پر قبضے کے بعد سے تقریبا 500٫000 لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ القاعدہ نواز تنظیم داعش کے جنگجووں نے آئل ریفائنری والے بیجی قصبے میں پیش قدمی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق داعش کے جنگجووں نے قصبے کے ایوان عدل اور پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی ہے۔

ریفائنری کی حفاظت پر 250 محافظ مامور ہیں اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش کے جنگجووں نے مقامی قبائل کے شیوخ پر مشتمل ایک وفد مذاکرات کے لئے بھیجا ہے تاکہ محافظ ہتھیار ڈال دیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ریفائنری کے محافظوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ انہیں کسی دوسرے قصبے میں بحفاظت پہنچا دیا جائے۔

داعش کے جنگجووں نے منگل کے روز عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل اور اس سے متصل صوبے نینوی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

موصل کے مشرقی قصبے بشھیقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے فون پر بتایا ہے کہ سرکاری اور بینکوں کی عمارات پر مسلح افراد تعینات ہیں جبکہ درجنوں خاندان اب بھی شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

'العربیہ' کے نمائندے کے مطابق منگل کے روز عراقی فوج کی جانب سے دستوں کو واپس بلائے جانے کے بعد کرکوک کے مغرب میں واقع تمام علاقے بھی داعش کے جنگجوئوں کے ہاتھ میں آ گئے ہیں۔ داعش نے کرکوک کے زعب اور عباسی علاقوں کو قبضے میں لے لیا ہے جبکہ حویجہ اور رشاد کی سرحد پر ابھی تک جنگ جاری ہے۔

ایک فوجی ذرائع نے 'العربیہ' نیوز چینل کو بتایا کہ کرد فوج نے کرکوک کا محاصرہ کرلیا ہے تاکہ داعش کے جنگجو علاقے میں مزید پیر نہ جما سکیں۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے منگل کے روز داعش اور اس کی ساتھی تنظیموں کے خلاف رضا کارانہ طور پر لڑنے والے شہریوں کو ہتھیار اور ساز و سامان فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ ایک بیان میں مالکی نے اپنی کابینہ سے کہا ہے کہ ایک خصوصی کرائسس سیل قائم کیا جائے جو کہ رضاکاروں کی بھرتی اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

عراق میں پچھلے سال 23 اپریل کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حویجہ کے نزدیک ایک حکومت مخالف کیمپ کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں تصادم کا سلسلہ شروع ہوا جس میں درجنوں افراد کی جانیں گئی اور یہ سلسلہ ابھی تک تھما نہیں ہے۔