.

داعش کا جنگجوؤں کو بغداد کی جانب پیش قدمی کا حکم

عراقی دارالحکومت میں شہریوں میں خوف وہراس، دکانیں اور کاروباری مراکز بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے متاثر جہادی گروپ دولت اسلامی عراق و شام (داعش ) نے اپنے جنگجوؤں کو عراقی دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا ہے۔داعش نے عراق کے شمالی علاقوں میں گذشتہ چار کے دوران سرکاری فوج کے مقابلے میں میدان جنگ میں نمایاں کامیابیوں کے بعد اپنے جنگجوؤں کو یہ ہدایت جاری کی ہے۔

داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے یوٹیوب پر جمعرات کو ایک آڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں تنظیم کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ بغداد کی جانب چڑھائی کی تیاری کریں۔

سیاہ لباس میں ملبوس داعش کے جنگجوؤں نے مقامی مسلح مزاحمت کاروں کی مدد سے گذشتہ چار روز کے دوران عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل ،سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت اور شمال میں واقع دوسرے چھوٹے، بڑے شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے عراقی فوج کو ماربھگایا ہے یا عراقی فوج خود ہی اپنی چوکیاں اور یونٹ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

تکریت میں جہادیوں نے شہر کا نظم ونسق چلانے کے لیے ایک فوجی کونسل قائم کردی ہے۔اس شہر کے شمال میں واقع قصبے العلم سے تعلق رکھنے والی ایک قبائلی شخصیت نے بتایا ہے کہ ''میرے قصبے میں جنگجو سیکڑوں کی تعداد میں آئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ یہاں خونریزی یا انتقام کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ اصلاحات اور عدل کا نفاذ چاہتے ہیں۔انھوں نے قصبے کے امور چلانے کے لیے ایک ریٹائرڈ جنرل کو ذمے داری سونپی ہے''۔

اس قبائلی شخصیت کے بہ قول اس جنگجو گروپ کے قائدین ایک ہی بات دُہرا رہے ہیں کہ ''ان کی حتمی منزل بغداد ہے اور وہیں فیصلہ کن جنگ ہوگی''۔ داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے بھی اپنے آڈیو بیان میں کہا ہے کہ اب بغداد اور جنوب مغربی شہر کربلا میں خوف ناک جنگ ہوگی۔انھوں نے اپنے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ بغداد پر چڑھائی کے لیے اپنی بلٹیں پہن رکھیں اور تیار رہیں۔

انھوں نے دولت اسلامی عراق وشام کے جنگجوؤں کو جنگ کی اخلاقیات کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری خیال کیا ہے اور انھیں باور کرایا ہے کہ ''جب وہ کسی گاؤں میں داخل ہوں تو گردنیں جھکائے ہوئے چلیں ،جو کوئی بھی پچھتاوے کا اظہار کرتا ہے تو اس کو قبول کریں،جو اکیلا رہنا چاہتا ہے،اس کو چھوڑ دیں اور اپنے سُنی اور قبائلی بھائیوں کے لیے رحم دلی کا مظاہرہ کریں''۔

انھوں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ داعش کے اعلیٰ عسکری کمانڈروں میں سے ایک عدنان اسماعیل نجم معروف بہ ابوعبدالرحمان البلاوی الانباری عراق میں حالیہ لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

محمد العدنانی اور اسماعیل نجم عراق میں القاعدہ کے سابق لیڈر اردنی نژاد ابو مصعب الزرقاوی کے قریبی ساتھی رہے تھے۔الرزقاوی 2006ء میں امریکی فوجیوں کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔

نجم کو عراق میں مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ کئی سال تک جیل میں قید رہے تھے۔انھیں دوسال قبل ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے داعش کے جنگجوؤں کو منظم کیا اور انھوں نے ہی عراق کے شمالی شہروں میں داعش کی حالیہ چڑھائی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

بغداد میں سراسیمگی

داعش کی شمالی عراق میں حالیہ کامیابیوں کے بعد دارالحکومت بغداد میں سراسیمگی کا ماحول ہے ،شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں اور وہ وزیراعظم نوری المالکی کی سرکردگی میں عراقی فوج کی کارکردگی اور صلاحیت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ جمعرات کو شہر کی شاہراہیں ویران نظر آئی ہیں اور بیشتر کاروباری مراکز بھی بند رہے ہیں۔

شہریوں میں داعش کے سیاہ لباس میں ملبوس جتھوں کی آمد کے حوالے سے خوف وہراس پایا جارہا ہے۔بغداد کے ایک شہری زید عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ ''دارالحکومت گذشتہ دوروز سے خالی ہے۔مسلح افراد شہر سے صرف نوے کلومیٹر دور ہیں اور آناً فاناً کسی بھی وقت چڑھائی کرسکتے ہیں''۔

زید عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ ''سرکاری فوج کی پسپائی پر ہم ہکا بکا رہ گئے ہیں۔ایسی فوج جس ہر ہم نے اربوں ڈالرز خرچ کیے ،وہ منظم جہادیوں کے مقابلے میں کہیں نظر نہیں آرہی ہے اور 2003ء کے بعد پہلی مرتبہ ہم حالتِ خوف میں ہیں''۔

داعش کے اتحادی جہادیوں نے بغداد سے نوے کلومیٹر شمال میں واقع قصبے دھلیہ اور اس کے نواحی علاقے معتصم پر آج قبضہ کر لیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے سوموار سے اب تک شمالی صوبے نینویٰ کے تمام علاقوں ،اس کے پڑوس میں واقع صوبوں صلاح الدین اور کرکوک کے بیشتر علاقوں اور شمال مغربی صوبے دیالا کے بھی ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دریں اثناء پڑوسی ملک ترکی نے موصل میں اپنے قونصل خانے پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے اور اسّی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے پر معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔تنظیم کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے سپین کے شہر میڈرڈ میں ایک کانفرنس کے موقع پرعراق میں تشدد کے واقعات کی تو مذمت کی ہے اور ترک یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کی نظر میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں بنتا ہے۔