.

السیسی کی اوباشوں کے حملے کا شکار خاتون سے معذرت

میدان التحریر میں شرم ناک واقعہ پر تمام مصری خواتین سے بھی معافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ اتوار کو ان کی حلف برداری کے موقع پر قاہرہ کے میدان التحریر میں بعض اوباشوں کے جنسی حملے سے متاثرہ خاتون کی اسپتال میں عیادت کی ہے اور اس سے اس افسوسناک واقعہ پر ذاتی طور پر معذرت کی ہے۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق صدر السیسی نے کہا کہ ''میں آپ سے اور ہر مصری خاتون سے معذرت کے لیے یہاں آیا ہوں اور میں ہر مصری خاتون سے معافی مانگتا ہوں''۔

انھوں نے کہا کہ ''مصر میں خواتین پر جنسی ہراسانی کے حملوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔میں مصری عدلیہ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سڑکوں پر ہماری عزت کو تار تار کیا جارہا ہے اور یہ درست نہیں ہے۔خواہ ایسا ایک ہی کیس کیوں نہ ہو، یہ قابل قبول نہیں ہے''۔

عبدالفتاح السیسی نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد مصر کے سب سے بڑے سماجی مسئلے جنسی ہراسیت سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔صدارتی ترجمان ایہاب بداوی نے منگل کو ایک بیان میں بتایا کہ صدر السیسی نے وزیر داخلہ کو جنسی ہراسیت کے خاتمے کے لیے نئے قانون پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔

اس قانون کے تحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث مجرموں کو پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ مصر کے سبکدوش ہونے والے صدر عدلی منصور نے گذشتہ ہفتے اس قانون پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت اس جرم میں ملوث افراد پر بھاری جرمانہ بھی عاید کیا جاسکے گا۔

عبدالفتاح السیسی کی گذشتہ اتوار کو صدارتی محل میں حلف برداری کے موقع پر دارالحکومت قاہرہ کے میدان التحریر میں ان کے حامی بھی تعداد میں جمع ہوئے تھے اور انھوں نے جشن منایا تھا لیکن اس دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے متعدد شرم ناک واقعات رونما ہوئے تھے۔

میدان التحریر میں اوباشوں کے ایک گروہ نے ایک خاتون اور اس کی انیس سالہ بیٹی پر مجرمانہ حملہ کیا تھا اور اس خاتون کا تن کا لباس تار تار کردیا تھا۔پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔یہ تمام افراد جنسی ہراسیت کے تین اور کیسوں میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔ان ملزموں کی عمریں 16 سے 49 سال کے درمیان ہیں۔

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے تین افراد کے خلاف جبری جنسی حملے اور ریپ کی کوشش کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔

اس بیان میں خاتون پر مجرمانہ حملے کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے خاتون اور اس کی نوعمر لڑکی کے گرد حصار بنا لیا تھا،انھوں نے اس خاتون کے کپڑے تار تار کردیے اور پھر اس پر مجرمانہ حملہ کیا تھا۔اس کے بعد وہ خاتون چائے فروش کے گرم پانی کے برتن میں گر گئی تھی جس کے نتیجے میں اس کے جسم کا پچیس فی صد حصہ جل گیا تھا۔صدر السیسی نے قاہرہ کے اسپتال میں زیرعلاج اسی خاتون کی عیادت کی ہے۔

سوموار کو مصر کی خواتین کے حقوق کی علمبردار انتیس تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں حکومت پر خواتین پر جنسی ہراسانی کے اجتماعی حملوں کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی پر زوردیا تھا۔ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومبر 2012ء سے جنوری 2014ء کے درمیان خواتین پر جنسی ہراسیت اور اجتماعی عصمت ریزی کے دوسو پچاس سے زیادہ حملوں کی تفصیل اکٹھی کی ہے۔

گذشتہ اتوار کو میدان التحریر میں خواتین پر مصری اوباشوں کے مجرمانہ حملوں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران مصر کے ایک ٹی وی چینل کی خاتون میزبان کے نامناسب اور انتہائی غیر ذمے دارانہ تبصرے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔التحریر ٹی وی کے میدان التحریر میں موجود نمائندے نے جب اپنی خاتون اینکر کو جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات پیش آنے کی اطلاع دی تو اس نے اس پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ''یہ اس لیے ہورہا ہے کیونکہ وہ خوش ہیں''۔