.

لبنان میں دہشت گردی ،31 فلسطینیوں کو سزائے موت کا حکم

بیروت کی فوجداری عدالت کا ملزموں کی عدم موجودگی میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایک فوجداری عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اکتیس مشتبہ فلسطینیوں کو قصور وار قرار دے کر ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان میں عسکریت پسندی میں ملوث فلسطینیوں کے خلاف مقدمہ بیروت کی فوجداری عدالت میں چلایا گیا ہے اور عدالت کے فاضل جج فادی صوان نے جمعرات کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزامات ثابت ہونے پر اکتیس افراد کو موت کی سزا کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا پانے والے تمام ملزمان کا تعلق القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم عبداللہ عزام بریگیڈ سے بتایا گیا ہے۔ ملزمان ملک میں خونریزی کے علاوہ لوٹ مار کی کارروائیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس سات اپریل کو بیروت میں المیہ ومیہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران آٹھ افراد کو ہلاک اور نو کو زخمی کر دیا تھا۔

عدالت نے تمام مفرور ملزمان کے فوری وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انھیں عدالت میں پیش کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔دریں اثناء جنوبی لبنان میں 'المیہ ومیہ' پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے لبنانی عدالت کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ بیروت کی فوجی عدالت کی جانب سے مفرور فلسطینیوں کی سزائے موت کا فیصلہ ایسے حساس وقت میں جاری کیا گیا ہے جب المیہ ومیہ اور عین الحلوہ کے پناہ گزین کیمپ میں سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والی فلسطینی جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اورعدالتی فیصلے سے پناہ گزین بستیوں میں عام فلسطینی شہریوں کے لیے امن وامان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی ذریعے کا کہنا تھا کہ بیروت عدالت نے فیصلہ پناہ گزین کیمپ میں موجود سرکردہ فلسطینی قوتوں سے مشاورت کے بعد ہی کیا ہو گا کیونکہ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے قبل اس کے اثرات و نتائج پر ضرور غور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پورا لبنان بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ عدالت نے عسکریت پسندوں کو کڑی سزا سنا کر غیر ملکی شہریوں کو ایک وارننگ دی ہے تاکہ کوئی شر پسند ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش نہ کر سکے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عدالت نے جن اکتیس افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ہے ان کی فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں موجودگی یقینی نہیں کیونکہ وہ عرصے سے مفرور ہیں۔ اگر وہ پناہ گزین کیمپوں میں موجود ہوتے تو سیکیورٹی حکام انھیں ضرور گرفتار کر لیتے۔