.

موصل کو 'داعش' کے لیے ترنوالا بنانے والے عراقی فوجی

اعلی افسران کی نشاندہی سب سے پہلے گورنر نینوا نے کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دوسرے اہم ترین شہر موصل پر شدت پسند اسلامی تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام [داعش] کے قبضے کی راہ ہموار کرانے میں تین اہم فوجی عہدیداروں کو قصور وار قرار دیا جا رہا ہے۔ تین فوجی عہدیداروں کے نام سب سے پہلے نینوا صوبے کے گورنر اثیل النجیفی کی جانب سے سامنے آئے ہیں جس کے بعد اب حکام ان پر غور کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موصل پر اسلامی باغیوں کے قبضے کی راہ ہموار کرانے میں ذمہ ٹھہرائے گئے عہدیداروں میں بری فوج کے سربراہ فرسٹ لیفٹیننٹ جنرل علی غیدان، جوائنٹ آپریشنل کمیٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبود قنبر اور پولیس چیف میجر جنرل مہدی صبیح الغراوی کے نام شامل ہیں۔

نینوا کے گورنر اثیل النجیفی کا کہنا ہے کہ یہ تینوں عسکری شخصیات موصل پر داعش کے قبضے کی راہ ہموار کرنے میں اہم ترین قصور وار ہیں۔ ان تینوں نے صورت حال کی حقیقت سے حکومت کو آگاہ نہیں کیا جس کے باعث داعش کو شہر پر تسلط جمانے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے قبضے سے 72 گھنٹے قبل لیفٹیننٹ جنرل علی غیدان اور عبود قنبر دونوں نے موصل کا دورہ کیا اور واپسی پر بتایا کہ حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ اس وقت داعش نے اپنی محدود سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔ اگر یہ عہدیدار شہر میں سیکیورٹی کے حوالے سے درست نشاندہی کرتے تو داعش کو تسلط جمانے کا موقع نہ ملتا۔