.

عراق: یرغمال ترک شہریوں کی رہائی کی کوششیں شروع

کردوں سمیت تمام عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطہ ہے: ترک حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے عراق میں عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے یرغمال بنائے گئے اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں عسکریت پسند گروپوں کے سے رابطوں کے علاوہ عالمی اداروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے،

واضح رہے ترک شہری عراق میں اسلامی عسکریت پسندوں کی مختلف شہروں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی پیش قدمی کے بعد سے عسکریت پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق موصل کے ترک قونصل خانے میں موجود 49 ترک شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ ان میں ترک مشن کا سربراہ بھی شامل ہے۔ ترک حکام کا اس بارے میں کہنا ہے'' ہم شمالی عراق میں ترک شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کردوں سمیت تمام عسکریت پسندوں سے رابطے میں ہیں۔''

ان حکام کے مطابق ترکی نے سفارتی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں تاکہ اپنے شہریوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ داعش نے 31 ترک ٹرک ڈرائیوروں کو بھی ایک بجلی گھر سے قید کر لیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو رہا کرانے کے لیے جاری کوششوں کی تفصیلات جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ ہمارے شہری محفوظ علاقوں میں ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا '' اپنے ہر شہری کا تحفظ ہمارے لیے انتہائی اہم ہے، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، ہمیں امید ہے ان کے حوالے سے جلد خوشخبری سنیں گے۔''

شمالی عراق کی صورت حال کے پیش نظرترکی نے اپنے شہریوں کو عراق کی طرف سفر سے روک دیا ہے۔ نیٹو کے سربراہ نے ترک شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم نیٹو کے سربراہ نے کہا ان وہ نیٹو کا عراق میں کوئی کردار نہیں دیکھتے ہیں۔

دریں اثناء ترکی کا دورہ کرنے والی اقوام متحدہ کے لیے مستقل امریکی نمائندہ سامناتھ پاور نے ترک شہریوں کو یرغمال بنانے کی مذمت کی ہے۔