.

'داعش' کی مجوزہ اسلامی ریاست کا نقشہ جاری

نقشے میں کویت کو بھی ریاست کا حصہ دکھایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] نے اپنی خیالی اسلامی ریاست کا نقشہ جاری کیا ہے جس میں خلیجی ریاست کویت کو بھی اس کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ داعش کی جانب سے یہ نقشہ سامنے آنے کے بعد کویتی وزیر اعظم نے اپنے عراقی ہم منصب نوری المالکی سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے امن وامان کی موجودہ صورت حال بالخصوص داعش کی تیزی سے پھیلتی عسکری سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

کویتی سیکرٹری خارجہ خالد الجار اللہ نے 'العربیہ' نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے داعش کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ 'داعش' جیسے گروپ نہ صرف کویت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ تمام عرب ممالک کی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

خالد الجار اللہ کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی عسکریت پسند گروپوں بالخصوص داعش اور دوسرے القاعدہ نواز عسکریت پسندوں سے ہمیں سخت محتاط رہنا ہو گا۔ انہوں نے عرب ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کویتی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ'داعش' تمام خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور ہم سب مل کر اس خطرے کا تدارک کریں گے۔

خیال رہے کہ داعش نے اپنی مجوزہ اسلامی ریاست کا نقشہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب تنظیم نے عراق کے متعدد شہروں پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ یہ تنظیم پچھلے تین سال سے شام میں صدر بشار الاسد اور باغی فوج جیش الحر کے خلاف بھی سرگرم ہے۔

شام میں اس تنظیم کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر شہریوں کے قتل اور اغواء کے واقعات رو نما ہو چکے ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تنظیم نے ڈرامائی انداز میں عراق کے نینوا صوبے کے اہم ترین شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اظہار تشویش کے ساتھ ساتھ بغداد حکومت کی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

داعش، القاعدہ اختلاف

داعش کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ اس کا اسامہ بن لادن کی قائم کردہ تنظیم 'القاعدہ' کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے تاہم القاعدہ کی جانب سے واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اب القاعدہ اور داعش کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کی ہے جس کے بعد دونوں تنظیموں میں تعلق ختم ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ ایمن الظواھری نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو ہدایت کی تھی کہ وہ شام کے محاذ جنگ پر موجود دوسری تنظیم 'النصرہ فرنٹ' کے ساتھ مل کر کام کرے لیکن البغدادی نے النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد الغولانی سے اشتراک عمل کی تجویز مسترد کر دی تھی۔