.

غرب اردن سے تین یہودی آبادکار لاپتا ہو گئے

نیتن یاہو کا فلسطینی انتظامیہ پر اغواء کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کی 'غوش عتصیون' یہودی کالونی سے تعلق رکھنے والے تین یہودی آباد لاپتا ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے یہودی آباد کاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق تین لاپتا یہودی، جنہیں مبینہ طور پر فلسطینیوں نے یرغمال بنا رکھا، کی تلاش کا عمل جاری ہے لیکن ابھی تک ان کے ٹھکانے کا علم نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی کسی گروپ نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ میڈیا رپورٹس نے فوجی ترجمان کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ لاپتا تینوں یہودیوں کی تلاش کے لیے غیر معمولی سرچ آپریشن جاری ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کی شام غرب اردن کے تاریخی شہر الخلیل کے ایک دور دراز علاقے سےتین یہودی آباد کا لاپتا ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے یہودی آباد کاروں کی تلاش کے لیے سڑکوں پر ناکے لگا کر تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے امن وامان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہودی آباد کاروں کو محمود عباس کی قیادت میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے اغواء کیا ہے اور وہی ان تینوں یہودیوں کی سلامتی کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیلی حکومت نے تینوں لاپتا یہودیوں کے بارے میں امریکی سفیر ڈینیئل شابیرو کو بھی آگاہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ لاپتا ہونے والوں میں ایک شخص کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔

عبرانی روزنامے 'ہارٹز' کے مطابق لاپتا یہودی آباد کاروں میں ایک کی عمر سولہ اور دوسرے کی انیس سال ہے جبکہ تیسرے کے بارے میں درست معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتا یہودیوں کی تلاش میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔

ادھرامریکی وزیرخارجہ جان کیری نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ٹیلیفون پربات چیت کرتے ہوئے لاپتا یہودی آباد کاروں کی تلاش میں اسرائیل سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔