.

قطری صارفین ٹوئٹر کی برطانیہ کے سیاحتی بائیکاٹ کی مہم

اہل قطر، قطر میں فٹبال عالمی کپ کے خلاف مہم پر ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر صارفین نے اہل قطر کو برطانیہ کے سفر سے فی الحال روکنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔
یہ مہم برطانوی میڈیا کی قطر کے خلاف فٹبال ورلڈ کپ کا میزبان بننے کے بارے میں شروع کی گئی منفی مہم پر بطور احتجاج شروع کی ہے۔

واضح رہے قطر کوآج کل میڈیا کی سطح پر ان الزامات کا سامنا ہے کہ اس نے 2022 کے عالمی فٹ بال کپ میزبان بننے کے لیے غلط طریقے اختیار کیے ہیں۔

ٹوئٹر کے بعض قطری ٹوئٹر صارفین کا کہنا ہے کہ برطانوی ذرائع ابلاغ کی بالعموم اور سنڈے ٹائمز میں بطور خاص شائع ہونے والی حالیہ بعض خبریں نسل پرستانہ سوچ کا مظہر ہیں۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے'' برطانیہ کے نسل پرست چوہوں کی مخالفت کے باوجود 2022 کا عالمی کپ اللہ کی مدد سے قطر میں ہی منعقد ہو گا۔

ایک قطری خاتون صحافی اہام بدر نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ اہل قطر اس سال برطانیہ کے سفر پر نہ جائیں، بلکہ لندن کے بجائے دوسرے خوبصورت شہروں کا رخ کریں۔ ''

جابر المیری ایک اور قطری صحافی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ '' عرب دنیا کے لوگوں کے خلاف نسل پرستانہ مہم کا آغاز اس لیے کیا گیا ہے کہ ایک عرب ملک نے اپنے آپ کو 2022 کے عالمی فٹ بال کپ کا میزبان بننے کا اہل ثات کر دیا ہے۔

اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ '' پوری دنیا برطانیہ کے نسل پرستی پر مبنی رویے کو ناپسند کرتی ہے۔ اس لیے فیفا پر برطانیہ کی قطر کے خلاف پراپیگنڈا کا اثر نہیں ہو گا اور نہ ہی فیفا برطانیہ کے آگے گھٹنے ٹیکے گا۔ ''

لندن قطری شہریوں کی تعطیلات گرما گذارنے کے لیے عام طور لندن کو ترجیح دیتے ہیں۔ پچھلے سال قطر کے لیے برطانوی سفیر نے کہا تھا '' بہت سے خلیجی ممالک کے لوگ برطانیہ کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔

خیال رہے قطر کو الزام دینے میں برطانیہ تنہا نہیں۔ چیئرمین فیفا نے اسی ہفتے قطر پر نسل پرستی کا الزام عاید لگایا تھا۔ چیئرمین کا کہنا تھا عالمی کپ کا میزبان بننے کے لیے نسل پرستی اور امتیازی انداز اختیار کیا گیا ہے۔''

چیئرمین نے قطر کے حوالے سے مبینہ سکینڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہا'' یہ فیفا کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ قطر پر میزبان بننے کے لیے مبینہ طور پر رشوت دینے کے علاوہ عالمی کپ کے موقع پر قطر میں گرمی کا غیر معمولی ہونا بھی ایک بڑے اعتراض کے طور پر سامنے آیا ہے۔