.

کیا داعش کی 'ہلالی ریاست' کو استقلال نصیب ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے درمیان مذہبی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے القاعدہ نواز گروپ 'داعش' کی جنگ پچھلے کئی سال سے جاری ہے مگر اس انتہا پسند تںظیم کو اپنی منزل کے قریب پہنچنے میں شام کی خانہ جنگی نے بہترین موقع فراہم کیا۔

ان دنوں 'داعش' عراق اور شام کے مختلف شہروں پر مشتمل دولت اسلامیہ عراق وشام نامی ایک ریاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دونوں پڑوسی ملکوں کے شہروں کے درمیان نکات نقشے پر ملانے سے 'ہلال' کی شکل بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین داعش کے زیر قبضہ موجودہ علاقوں کو 'ہلالی ریاست' کا نام دیتے ہیں۔

داعش کی "ہلالی ریاست" شام کے شہر حلب سے شروع ہوتی ہے جو الرقہ اور دیرالزور سے ہوتی ہوئی عراق کے صوبہ نینویٰ ، الانبار اورضلع صلاح الدین تک جا پہنچتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم کی عسکری سرگرمیاں دونوں ملکوں میں تو عرصے سے جاری تھیں لیکن دور دور تک امکان نہیں تھا کہ وہ سرعت سے دونوں ملکوں کے اہم علاقوں پر اپنا تسلط بھی جمالے گی۔ تنظیم کی کامیابیوں کا آغاز گذشتہ برس اس وقت ہوا جب 'داعش' کے جنگجوؤں نے شامی شہر الرقہ پر قبضہ کر کے وہاں سے جیش الحر اور سرکاری فوج دونوں کو بھگا دیا۔ اگلے مرحلے میں انہوں نےحلب کے کئی دوسرے اہم مقامات اور دیر الزور کو بھی اپنی فتووحات میں شامل کیا جس نے داعش کو ایک ٹھکانا فراہم کر دیا۔

عراق میں داعش کی کامیابیوں کی بنیادی وجہ موصل جیسے شہر پر قبضہ بنا۔ موصل پر قبضہ ہوتے ہی آس پاس کے سُنی اکثریتی علاقے پکے ہوئے پھل کی طرح داعش کے جنگجوؤں کی جھولی میں آ گرے۔

گذشتہ برس [2013ء] کے دوران شام کے ترکی کی سرحد سے متصل شہر حلب پر قبضے کے لیے داعش نے چومکھی لڑائی جاری رکھی۔ داعش کو سرکاری فوج، النصرہ فرنٹ اور جیش الحر کے ساتھ معرکہ آرائی کرنا پڑی۔ مگر آخر کار جیش الحر نے حلب کے بیشتر علاقوں سے داعش کو نکال باہر کیا اور تنظیم نے الرقہ اور دیر الزور جیسے شہروں میں اپنے پنجے مضبوط کر لیے۔ چونکہ یہ علاقے عراق کے صوبہ الانبار سے قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ الانبار میں اپنی توسیع پسندانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

جس طرح رواں سال کے آغاز میں جیش الحر کے ہاتھوں داعش کو حلب میں بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا تھا عراق میں ایسا نہیں ہوا۔ حلب میں جیش الحر کے حملے کے بعد داعش نے راہ فرار اختیار کی مگر عراقی فورسز داعش کی سرگرمیاں محدود کرنے میں ناکام رہیں۔

مزعومہ 'ہلالی' ریاست کا مستقبل؟

دولت اسلامیہ عراق وشام جیسے عسکری گروپوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ "داعش" کی ہلالی ریاست چند دنوں کی مہمان ہے کیونکہ عراق اپنی سر زمین پر القاعدہ کے خلاف ایک بھرپور جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

تاہم مبصرین یہ خیال بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نوری المالکی کی موجودہ حکومت دہشت گردی کی روک تھام میں ناکام بھی رہی ہے اس لیے داعش اپنی ریاست نہ بھی بچا سکی تب بھی بغداد سرکار کو 'ٹف ٹائم' ضرور دے گی۔ مبصرین کے خیال میں داعش نے جس تیزی کے ساتھ عراق کے کئی اہم شہروں پر قبضہ کیا ہے اس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں بالخصوص صوبہ الانبار اور صلاح الدین میں سخت خوف اور کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

ان علاقوں میں داعش اور اس کے مخالف جنگجوؤں میں خونریز خانہ جنگی کا بھی خدشہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موصل پر قبضے کے بعد داعش ان شہروں پر آسانی سے قبضہ کر سکتی ہے جہاں عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفت کمزور ہے لیکن اگر بغداد حکومت سنجیدگی سے موصل کو داعش سے چھڑانا چاہے تو یہ کام چند ایام کے اندر اندر بھی ہو سکتا ہے۔

داعش نے اپنی ابتدائی جنگ میں عراق کے سنی اکثریتی علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ تنظیم کی یہ حکمت عملی معنی خیز ہے کیونکہ ریاستی رِٹ نہ ہونے کے باعث یہاں کے لوگ جلد از جلد داعش کی عمل داری قبول کر لیں گے۔ بالکل ایسے ہی جیسے شام کے شہر الرقہ اور دیر الزور میں ہوا۔

عین ممکن ہے کہ داعش کی حکومت دریائے فرات کے کنارے واقع صوبہ الانبار کے القائم، راوت، حدیثہ، ھیت، الرمادی اور فلوجہ تک اور دوسری جانب دریائے دجلہ کے کنارے واقع شہر موصل، الشرقاط، بیجی، تکریت، الدور، سامراء اور الضلوعیہ تک پھیل جائے کیونکہ یہ علاقے عملا عراقی حکومت کی رٹ سے باہر ہیں۔